کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے چین پر فضائی آلودگی میں نمایا کمی آئی ہے

Climate Change
NASA images show ‘significant decreases’ in air pollution over China due to coronavirus outbreak

مہلک کورونا وائرس کے  پھیلنے سے تقریبا اس وقت تک  8000 سے زیادہ افراد ہلاک اور دو لاکھ سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اس وائرس نے پوری دنیا میں خطرے کی گھنٹی بنا دی ہے۔ تاہم اگر دیکھا جائے تو اس وائرس کے پہلنے سے عالمی حرارت اور ماحولیاتی آلودگی میں خاصا فرق دیکھا گیا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں دسیوں ہزار پروازیں منسوخ ہونے کے ساتھ مارچ میں عالمی ہوائی ٹریفک میں 5.3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے چین کے اکثر صوبوں میں فیکٹریاں بند کردی گئیں ہیں، جس سے اچھے معیار کی ہوا میں ڈرامائی انداز میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

ناسا اور یوروپی اسپیس ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ مصنوعی سیارہ کی تصاویر میں جنوری اور فروری کے درمیان چین کے بڑے شہروں میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج  جو گاڑیوں ، بجلی گھروں اور بڑی بڑی صنعتوں سے ہوتا ہے اس میں ڈرامائی کمی دیکھنے کو ملی ہے۔

ان تمام  صنعتی پاور زونز علائقوں کے اوپر زہریلی گیس کے دکھائی دینے والے بادل تقریبا غائب ہوگئے ہیں۔

دنیا کی سب سے بڑی آلودگی پھیلانے والے کی حیثیت سے  چین سالانہ دنیا کے CO2 اخراج میں  30 فیصد کا شراکت دار ہے ۔

ماھرین کے مطابق لہذا اس طرح کی بہت بڑی آلودگی  کا اثر بہت ہی کم عرصے میں بہت زیادہ پایا گیا  ہے۔  سی آر ای ای (CREA) کے تخمینے کے مطابق یہ 200 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر ہے۔

چین دنیا کا کوئلہ کا سب سے بڑا پیداواری اور صارف ہے ، جس نے 2018 میں ان  وسائل کو اپنی 59 فیصد توانائی کے لئے استعمال کیا،  پاور پلانٹس اور دیگر بھاری صنعتوں کو چلانے کے ساتھ ساتھ ، دیہی علاقوں میں بھی لاکھوں گھروں کو بجلی دینے کےلئے کوئلہ ہی  واحد ذریعہ ہے.

ونڈ ڈیٹا سروس کے اعدادوشمار کے مطابق ، ملک کے کوئلے سے چلنے والے بڑے بجلی گھروں میں گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 3 فروری سے یکم مارچ تک کھپت میں 36 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق چین میں ہر سال فضائی آلودگی 10 لاکھ سے زیادہ قبل از وقت اموات کا سبب بنتی ہے۔ فائن پارٹیکل آلودگی ، جسے پی ایم 2.5 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، پھیپھڑوں کے ذریعے خون کے دھارے میں داخل ہوتی ہے اور اس سے دمہ جیسے بیماریاں ، دل کے دورے اور سانس کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماھرین کے مطابق دو مہینوں کی آلودگی میں کمی نے چین میں پانچ سال سے کم عمر 4000 بچوں  اور 73000 بالغوں کی زندگیوں کو بچایا ہے۔ یاد رہے کہ اس آلودگی سے ہونے والی اموات  یہ وائرس سے  عالمی سطح پر ہونی والی  اموات کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔