دنیا کی سب سے بڑی کورونا وائرس لاک ڈاؤن کا ہندوستان کی آلودگی پر بھی ڈرامائی اثر پڑ رہا ہے

Climate Change
coronavirus lockdown is having a dramatic impact on pollution in India

جب ایک ہفتہ قبل ہندوستان نے ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا ، تو یہ نوول کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے  کیا گیا تھا۔

لیکن 1.3 بلین آبادی والے اس ملک کی فضائی آلودگی کم ہونے سے صحت کے ایک اور دبے ہوئے مسئلے سے عارضی طور پر نجات ملی ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے لاک ڈاؤن کا مطلب ہے کہ اب تمام فیکٹریاں ، بازار ، دکانیں اور عبادت گاہیں بند کردی گئی ہیں ، بیشتر پبلک ٹرانسپورٹ معطل اور تعمیراتی کام رک گیا ہے ، کیونکہ ہندوستان نے اپنے شہریوں کو گھر بیٹھے رہنے اور معاشرتی فاصلے پر عمل کرنے کےلئے کہا گیا ہے۔ اب تک ، بھارت میں کوویڈ 19 کے 3590 سے زیادہ تصدیق شدہ کیسز ہیں جن میں 100 اموات بھی شامل ہیں۔

 اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہندستان کے اہم شہروں میں نقصان دہ مائکروسکوپک پارٹیکیولیٹ مادے کی سطح بہت کم ریکارڈ کی جارہی ہے ، جو پی ایم 2.5 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اور اس کے علاوہ نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بھی بہت کمی آئی ہے، جو گاڑیوں اور بجلی گھروں کے ذریعہ جاری کیا جاتا ہے۔

پی ایم 2.5 ، جو 2.5 مائکرو میٹر قطر سے چھوٹا ہے ، خاص طور پر خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ پھیپھڑوں میں بہت گہرائی میں داخل ہوسکتا ہے اور دوسرے اعضاء اور خون کے بہاؤ میں جاسکتا ہے ، جس سے صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

دارالحکومت  نئی دہلی میں سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد  پی ایم 2.5 کی اوسط تعداد میں ایک ہفتے کے فاصلے میں 71 فیصد کمی واقع ہوئی ہے،  جو 20 مارچ کو 91 مائکروگرام فی مکعب میٹر سے گر کر 27 مارچ کو لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد 26 ہو گئی تھی۔

یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت 25  سے اوپر کی ہر چیز کو غیر محفوظ سمجھتا ہے۔

متعلقہ خبر: دہلی میں رہنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

اسی عرصے میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ 52 فی مکعب میٹر سے 15 ہو گئی ہے۔ ممبئی، چنئی، کولکتہ اور بنگلور میں بھی فضائی آلودگی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

سی آر ای اے کے تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ 22 مارچ کو بھارت میں ملک گیر کرفیو کے نتیجے میں ریکارڈ پر ایک روزہ ٹریفک آلودگی کی سب سے کم سطح بھی رہی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دوسری خطرناک آلودگی، پی ایم 2.5 اور بڑے پی ایم 10 ، جو قطر میں 10 مائکرو میٹر سے بھی کم ہیں، اس میں بھی بڑی تیزی سے گراوٹ ہوئی ہے۔

آلودگی کی سطح میں زبردست زوال پانے والے اسی طرح کے نمونے یورپ اور چین کے کچھ حصوں میں دیکھنے کو مل رہے ہیں جب سے ان کی صنعتیں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک ایک طرح سے رکے ہوئے ہیں۔

دنیا میں سانس کی بیماری کی سب سے زیادہ شرح ہندوستان میں ہے، اور دنیا میں ٹی بی کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی ہندوستان سے ہے۔ ماھرین کے مطابق پھیپھڑوں کے اس طرح کے بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصان سے کورونا وائرس سے وابستہ خطرات میں ممکنہ طور پر اضافہ ہوسکتا ہے۔