آسٹریلیائی آگ میں لگ بھگ 500 ملین جانوروں کے مرنے کا خدشہ ہے

Climate Change
Bushfires in Australia

ماہرین ماحولیات کا اندازہ ہے کہ ستمبر سے اب تک ملک کی تباہ کن جنگل کی آگ میں 480 ملین دودہ دینے والے جانور ، پرندے اور رینگنے والے جانور ہلاک ہوچکے ہیں۔ سڈنی – ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی تباہ کن جنگل کی آگ کے نتیجے میں لگ بھگ نصف ارب جانوروں کی موت ہوئی ہے۔

آسٹریلیا میں 2019 میں لگنے والی  بش فائر میں ایک اندازے کے مطابق 6 ملین ہیکٹر (15 ملین ایکڑ) کی ایراضی جل کر خاک ہوگئی ہے، 2500 سے زیادہ عمارتیں (1300 سے زیادہ مکانات ) بھی شامل ہیں۔ اور کم از کم 19 افراد ہلاک اور مزید 28 لاپتہ ہیں۔

آسٹریلیائی ریاستوں نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریہ میں جنگل کی آگ نومبر 2019 میں شروع ہوئی تھی ، اور اب یہ دونوں ریاستیں بدستور انتہائی پیچیدہ ماحولیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ این بی سی نیوز میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق آگ نے اتنی تباہی مچائی ہے کہ   نئے سال کے موقع پر (31 دسمبر) کو ہزاروں آسٹریلین سمندر کے کنارے  پناہ لینے کےلئےاپنے گھروں سے نکلے تھے۔

ایک خبررساں ایجنسی  اے کے ایف کے مطابق آسٹریلیا میں کل 80 ھزار سے بھی  زائد کوالہ رہتے تھے جو اب 43 ھزار سے بھی کم بچ گئے ہیں۔ جب کہ 50 ملین کینگرو کی آبادی ہے جو اب 30 ملین کے قریب بچی ہے۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ آسٹریلیا کے پیارے جانور کوالاس زیادہ تناؤ کی وجہ  سے مر رہے ہیں کیونکہ ان کے رہائش گاہ تباہ ہورہی ہیں ، محققین نے کہا ہے۔ اس تناؤ سے ایک بیماری جنم لی  رہی ہے جو 50 سے 90 فیصد جانوروں کو متاثر کررہی  ہے۔

جلتی ہوئی سڈنی کو زمین کا سب سے گرم ترین  مقام قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ اس خطرناک بشفائر نے سڈنی شہر کے کافی حصوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ جس میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوگئے۔ مشتعل آتش فشاں اپنی گرمی کی وجہ سے اپنے طوفان بنا رہے ہیں۔ آگ کے طوفان کے نتیجے میں آسمان پر دونھےکے بادل چھا گئے ہیں۔ جب کہ جنوب مشرقی آسٹریلیا کے علاقوں میں آسمان کے اوپر کالا رنگ چھا گیا ہے اور اندھیرا ہوگیا اور ہوا کے لگنے سے آگ کے شعلے اور بھڑک رہے ہیں۔ اور کچھ علائقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسئس کو  بھی پار کر گیا ہے۔