کورونا وائرس پھیلنے کے بعد کونٹیجین فلم سب سے زیادہ دیکھی جانی والی فلم بن گئی ہے

Health and Medicine
Contagion Becomes Most-Watched Movie Online After Coronavirus Outbreak

2011 کی اکیڈمی ایوارڈ یافتہ فلم ‘کونٹیجین’ کے اداکاروں گیونتھ پیلٹرو، میٹ ڈیمن، کیٹ ونسلٹ اور جوڈ لا نے پوری دنیا میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلتے ہی نئی مقبولیت حاصل کی ہے۔

COVID-19 کورونا وائرس پھیلنے کے بعد فلم کونٹیجین کی ڈائون لوڈنگ میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فلم کی کہانی کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال سے ملتی جلتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ یہ دیکھنے والوں کو راغب کررہی ہے۔

فلم ایک غیر حقیقی عالمی بیماری کے بارے میں ہے جس کے روکتھام کےلئے طبی عملہ  بہت جدوجہد کرتا ہے اورفلم میں دکھایا گیا ہے کہ اس وبا کے دوران معاشرتی نظم و ضبط کو بھی بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔

فلم کا موضوع ایک ہوا سے پہلنے والا مہلک وائرس ہے جو کچھ ہی دنوں میں لوگوں کو ہلاک کر دیتا ہے۔ جیسے ہی وبا پھلتی ہے تو بین الاقوامی طبی ماھرین وائرس اور بڑھتی ہوئی گھبراہٹ سے لڑنے کے لئے فوری طور پر حل تلاش کرنے میں لگ جاتے ہیں۔

2011 میں ریلیز ہونے والی اس فلم کی ہدایتکاری اسٹیفن سوڈربرگ نے کی تھی اور اسکاٹ زیڈ برنز نے لکھی ہے۔

فلم ڈسٹریبیوٹ کرنے والے وارنر بروس نے کہا ہے کہ کونٹیجین اس وقت آن لائن پہ سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فلم بن گئی ہے اور فی الحال ہیری پوٹر فرنچائز کے بعد سب سے زیادہ مانگ والی فلم بن گئی ہے۔

کونٹیجین گوگل پر سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی فلم بن گئی ہے اور اس کے علاوہ ایمیزون پرائم، آئی ٹیونز دونوں پرحیرت انگیز واپسی کی ہے اور کچھ ٹورینٹ سائٹس پر سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی گئی فلموں میں سے ایک ہے۔

اس فلم میں ایک کاروباری خاتوں(پیلٹرو) ایک پرسرار اور مہلک وائرس کے ذریعے ہلاک ہوجاتی ہے، جس سے وہ چین کے دورے کے دوران متاثر ہوتی ہے اور پہر یہ وائرس پوری دنیا میں ہنگامی صورتحال پیدا کردیتا ہے۔

فلم میں چین سے وائرس پھلنے والا پہلو اہمیت کا حامل بن گیا ہے جو حقیقی زندگی سے ملتا جلتا ہے اور اس وجہ سے اس فلم کی مقبولیت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

اس فلم میں پیلٹرو نامی کردار کو ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے شیف سے ہاتھ ملانے سے ایم ای وی ون نامی وائرس لگتا ہے۔ جب کہ اس شیف کو یہ وائرس ایک ذبح شدہ سور کو ہاتھ لگانے سے لگا تھا جو کہ ایک چمگادڑ سے متاثر ہوا تھا۔

اس کے بعد گھر واپس آتی ہیں، شدید بیمار ہوجاتیں ہیں اور اس کے چند دن بعد ہی ہلاک ہوجاتی ہیں۔ ان کا بیٹا بھی جلد ہی مرجاتا ہے لیکن میٹ ڈیمن کا مدافعتی نظام، جو اس فلم میں ان کے شوہر کا کردار نبھا رہے ہیں، اس وائرس سے انھیں محفوظ رکھتا ہے۔