چین کے ووہان شہر کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے آمدرفت کی تمام سروسز معطل کردی گئی ہیں۔

Health and Medicine
China Wuhan coronavirus

چین کے ووہن شہر کو کسی بھی قسم کی آمدرفت کےلئے بند کردیا گیا ہے۔ جمعرات کے روز ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق اس 14 ملین آبادی والے شہر کی فضائی اور زمینی نقل وحمل معطل کردی گئی ہے اور لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کو کہا گیا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق جمعرات کے صبح دس بجے سے شہر کے تمام بس اسٹاپس کو بند کردیا گیا ہے جس میں سب وی ، فیری اور زیادہ دور تک جانی والی تمام سروسز معطل کردی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اس شہر کے ہوائی اڈے اور تیز رفتار ٹرینوں کو غیر معینہ مدت کےلئے معطل کردیا گیا ہے۔

بدہ کے روز ووہان کی ہیلتھ کمیشن کے مطابق کورونا وائرس سے ہونی والی اموات کی تعداد دگنی ہوگئی ہے اور بدہ تک کم سے کم 17 افراد کی موت ہوچکی تھی۔  یہ وبا صوبہ ہوبی میں پہلی ہے جہاں پر ووہاں شہر واقع ہے اور جب کہ چین کی سرزمین پر اس وائرس کے متاثرہ کیسز کی تعداد 2000 کے قریب ہوگئی ہے جس میں بڑے بڑے شہروں سمیت کافی صوبے بھی شامل ہیں۔

ووہان کے حکام نے مقامی ریستوراں ، ہوٹلوں، مووی تھیٹر، شاپنگ مالز اور پارکوں میں  تمام ترلوگوں کےلئے ماسک پالیسی متعارف کروائی ہے اور نقاب پوش لوگوں کو کھلی جگہوں پہ آنے سے روگ دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

ہوائی ٹریفک  کے اعداد وشمار کے مطابق اوسطا 30000 افراد ووہان سے پرواز کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ زمینی نقل وحمل جیسے ٹرینوں اور کاروں کا استعمال کرکے چلے جاتے ہیں، یہ شہر وسطی چین میں صنعت و تجارت کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور اس خطے کا سب سے بڑا ہوائی اڈا اور گہرے پانی کی بندرگاہ بھی یہاں پر ہی ہے۔

ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا خاتمے کے قریب ہے، تیسرا بڑا چینی شہر بلکل لاک ڈائوں ہے کیوں کہ ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ یہ مہلک کورونا وائرس تغیر (میوٹیشن) کے ذریعے پہل رہا ہے۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ صرف ووہان شہر کے اندر دس ہزار افراد اس مہلک وائرس کی زد میں آسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ شام تک ووہان سے تقریبا 30 میل دور مشرق میں سات ملین پر مشتمل شہر ہوانگ گینگ کو بھی بند کروایا گیا ہے آمدرفت والی گاڑیوں اور ٹرینوں کو آدھی رات کو بند کردیا گیا ہے جب کہ رہاشیوں کو خصوصی اجازت کے بغیر شہر چھوڑنے سے روکا گیا ہے اور قریبی شہر ایزو میں ریل اسٹیشن بند کروائے گئے ہیں جس میں تقریبا دس لاکھ کی آبادی ہے ان تمام شہروں میں سفری پابندیاں لگادی گئی ہیں۔

چینی حکام نے ووہان کے گلیوں اور پارکوں کو گیس کے بادلوں یعنی دہوئیں سے جکڑ رکھا ہے تاکہ جراثیم کو پہلنے سے روکا جاسکے اور ہرطرف دونھے کا منظر ہے ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر کا ماحول ایسا محسوس ہوتا ہےجیسے دنیا کا خاتمہ ہونے والا ہے۔

یورپین یونین کے صحت کے اعلی عہدیداروں نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ کرائسز مزید عالمی سطح پر پہلنے کا امکان ہے لیکن عالمی ادارہ صحت کا کل کا اجلاس گلوبل ایمرجنسی قرار دینے میں ناکام رہا اور جب کہ عالمی ادارہ صحت کے عہدیداران آج پہر ملاقات کریں گے اور کسی لائی عمل کا اعلان کیا جائے گا یاد رہے کہ اس وقت تک یہ مہلک وائرس آٹھ ممالک میں پہل چکا ہے۔

Source: nytimes