نئی ایکسرے ٹیکنالاجی کیسے انقلاب لاسکتی ہے؟

Health and Medicine
X-ray new tecnology

یونیورسٹی آف میریلینڈ بالٹیمور کاؤنٹی آمریکا کے محققین نے ایک اہم ٹیکنالاجی کا استعمال کرتے ہوئے ایکسرے امیجنگ کے نئے طریقے کو متعارف کروایا ہے جو ہڈیوں میں مائکروفریکچر کی شناخت کےلئے رنگ کا استعمال کرتا ہے، اس سے پہلے مائیکروفریکچر کو معیاری ایکسرے امیجنگ کا استعمال کرتے ہوئے دیکھنا ناممکن تھا۔

ایکسرے کی دریافت کے بعد بنیادی امیجنگ میں آج تک کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ ڈاکٹر اور سائنسدان ہڈیوں کی گہرائی کو دیکھنے کےلئے اس پرانی امیجنگ ٹیکنالاجی کو استعمال کررہے تھے لیکن اب ایکسرے ٹیکنالاجی ایک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے جس میں ہڈیوں کے ان مائکرو کریک کا پتا لگایا جا سکتا ہے جو ایک عام ایکسرے میں نظر نہیں آتی ہیں۔
اس ٹیکنالاجی کو استعمال میں لانے کےلئے ایک ایسا نینو پارٹیکل تیار کیا گیا ہے جو آٹومیٹیڈ سسٹم کے ذریعے ان حصوں پہ منسلک ہوجاتا ہے جہاں پر مائکرو کریکس موجود ہوتے ہیں ان پارٹیکلس کو جی پی ایس (GPS Particles) بھی کہا جاتا ہے اگرچہ یہ پارٹیکلس ہفنیم (Hafnium) نامی عنصر کو استعمال کرتے ہیں جو ان ذرات کو کلر دیتا ہے اور اس طرح سے وہ مائکرو کریک ایکسرے کے اوپر کلر میں نظر آتے ہیں۔

بنانے والے ٹیم کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں اس ٹیکنالاجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر دل کے بلاکیج کا بھی پتا لگا سکتے ہیں۔