محققین نے مقناطیس کا استعمال کرتے ہوئے خون سے بیماریوں کو ختم کرنے کا طریقہ تلاش کرلیا ہے۔

Health and Medicine
PULL DISEASES FROM BLOOD USING MAGNETS

ایک برطانوی انجینئر نے مقناطیس کے استعمال سے خون سے ناپسندیدہ خلیوں کو فلٹر کرنے کا ایک طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ اور اس ٹول کو اگلے سال کلینیکل ٹرائلز میں استعمال کیا جائے گا۔

پہلے سے موجودہ تحقیق کی بدولت جیو کیمیکل سائنسدان جارج فروڈشیم جانتا تھا کہ مقناطیسی نینو پارٹیکلز کو جسم کے مخصوص خلیوں کی مدد سے قابو میں لانا ممکن تھا۔ لیکن جب دیگر محققین نے بنیادی طور پر ان خلیوں کو تصاویر میں ظاہر کیا تو انہوں نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہی ٹیکنیک ڈاکٹروں کو خون سے ناپسندیدہ بیماریاں پیدا کرنے والےخلیوں کو نکالنے میں مدد کرسکتی ہے۔

جب کسی کو ٹیومر ہوتا ہے تو کاٹ دیا جاتا ہے اسی طرح بلڈ کینسر میں خون میں ٹیومر ہوتا ہے تو کیوں نہ مستقبل میں کینسر کے ٹیومر خلیوں کو اس جدید ٹیکنیک سے نکالا جائے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں ڈاکٹر اس ٹیکنیک کا استعمال کرتے ہوئے متاثرہ شخص کے خون کو مشین میں کئی بار چلانے سے اس بیماری کی لیول کو  اتنا کم کرسکتے ہیں جس کو پہر نارمل ادویات کے ذریعہ یا مریض کےاپنے مدافعتی نظام پر انحصار کرنے سے  اس بیماری کو جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

فروڈشیم کی ٹیم فی الحال ملیریا سے متاثرہ مریضوں پر سسٹم کی آزمائش کےلئے برطانیہ کی ادویات  اور صحت کی دیکھ بال کرنے والی ریگیولیٹری ایجنسی سے منظوری کی منتظر ہے۔  اگر سب کچھ ٹھیک چلتا ہے تو انسانی ٹرائل  2020 میں شروع ہوسکتی ہے۔

فروڈشیم کے مطابق اس تھیوری کو کسی بھی چیز سے منسلک کیا جا سکتا ہے جس میں زہر، پیتھوجین، وائرس، بیکٹیریا اور اس کے علاوہ کوئی بھی چیز جس کو باندہ سکتے ہیں اس کو نکالا جا سکتا ہے۔ تو یہ ایک بہت ہی ممکنہ طاقتور ٹول بن سکتا ہے۔