برطانوی ماھرین نے ریمڈیسویر کو کورونا وائرس کے علاج کےلئے اس وقت سب سے زیادہ مؤثر قرار دے دیا ہے

Health and Medicine
Anti-viral drug remdesivir

ریمڈیسویر اینٹی وائرل دوا جس کو کورونا وائرس کے علاج میں خاطر خواہ نتائج کی وجہ سے برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروسز کے طرف سے بڑی تعداد میں دستیابی کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔

ابتدائی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس دوائی کے استعمال سے کورونا وائرس کے  مریضوں کی صحتیابی کا وقت چار دنوں تک کم کیا جاسکتا ہے، لیکن ابھی تک اس کے استعمال سے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے کہ اس سے مزید جانیں بچ جائیں گی۔

برطانیہ کے صحت کے سیکریٹری میٹ ہانکوک کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا بحران شروع ہونے کے بعد سے یہ دوائی شاید کورونا وائرس کے علاج میں سب سے بڑا قدم ہے۔

یاد رہے کہ ریمڈیسویر ایک اینٹی وائرل دوا ہے جو ایبولا سے لڑنے کےلئے استعمال کی جاتی ہے لیکن جانوروں پہ کیے گئے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ یہ سارس(Sars) اور مرس(Mers) سے لڑنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

برطانیا کے ریگیولیٹرز کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں اس دوائی کے استعمال کی منظوری کےلئے صحتیابی کے کافی شواہد موجود ہیں۔

اس وقت یہ دوا برطانیہ سمیت دنیا بھر میں کلینیکل ٹرائلس سے گذر رہی ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ برطانیہ کے مریضوں کے علاج کےلئے دوا ساز کمپنی گلیاڈ سائنسز کے پاس کتنا اسٹاک ہے۔

یاد رہے کہ گلیاڈ سائنسز نے اس دوائی کی ارسال بڑہانے کےلئے پاکستان اور بھارت کی پانچ دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ خصوصی لائسنس سازی کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جو ریمڈیسویر کو 127 ممالک میں فروخت کرسکیں گی۔

اس معاہدے میں گلیاڈ سائنسز نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس دوائی کو کم سے کم قیمت میں بنانا ہوگا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلئے ہرممکن کوشش کی جائے۔