کورونا وائرس کی ویکسین کو عام لوگوں تک پہنچنے میں کتنے ماہ لگیں گے؟

Health and Medicine
US volunteers test first vaccine

کورونا وائرس سے بچنے کے لئے ویکسین کا پہلا انسانی آزمائش امریکہ میں شروع کردیا گیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی کی خبر کے مطابق ، واشنگٹن کے علاقے سیئٹل میں کیسر پریمینٹ ریسرچ لیبارٹری میں چار رضاکاروں کو اس ویکسین کے نمونے دیئے گئے ہیں۔

ماھرین کے مطابق ویکسین کوویڈ 19 کا سبب نہیں بن سکتی ہے لیکن اس میں وائرس سے کاپی کیا ہوا  ایک غیر ضروری جینیاتی کوڈ ہے جو اس بیماری کا سبب بنتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ جاننے میں بہت مہینوں کا وقت لگے گا کہ آیا یہ ویکسین ، یا باقی دنیا میں ویکسین بنائے جانے پر ہونے والی  تحقیق کتینی موثر ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

پیر کے روز ویکسین کا پہلا ڈوز حاصل کرنے والا پہلا رضاکار سیئٹل کی ایک 43 سالہ  دو بیٹوں کی ماں ہے۔

وائرس کی عام ویکسین ، جیسے خسرہ (Measles) ،  کمزور یا مرے ہوئے وائرس سے تیار کی جاتی ہے۔

لیکن mRNA-1273 ویکسین اس وائرس سے نہیں بنائی گئی ہے جس کی وجہ سے کوویڈ ۔19 ہوتا ہے۔ اس کے بجائے ، اس میں وائرس سے کاپی شدہ جینیاتی کوڈ کا ایک مختصر حصہ شامل ہے جو سائنس دانوں نے ایک تجربہ گاہ میں بنایا ہے۔

سائنسدانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ویکسین کا یہ نمونا اصلی انفیکشن سے لڑنے کے لئے جسم کا اپنا مدافعتی نظام بہتر کرے گا۔

رضاکاروں کو اس  تجرباتی ویکسین کے مختلف ڈوز دیئے جارہے ہیں۔

اوپری بازو کے پٹھوں میں ان رضاکاروں میں سے  ہر ایک کو مجموعی طور پر 28 دنوں میں  دو جبڑے دئیے جائیں گے۔

لیکن یہاں تک کہ اگر یہ ابتدائی حفاظتی ٹیسٹیں توقعات پر پوری اتر جاتی ہیں ، تب بھی عوام کے لئے  کسی بھی ممکنہ ویکسین کو دستیاب ہونے میں کم سے کم 18 ماہ تک لگ سکتے ہیں۔