کورونا وائرس کی وبا کب ختم ہو گی اور زندگی معمول پر کب آئے گی؟

Health and Medicine
herd immunity will slow down coronavirus pandemic

پوری دنیا کو بند کیا جا رہا ہے۔ وہ مقامات جو ایک وقت میں روزمرہ کی زندگی میں  سب سے زیادہ مصروف ترین تھے وہاں پر اسکولوں،کالیجوں،یونیورسٹیوں، اجتماعات، شاپنگ مال، ریلوی اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں کو بند کردیا گیا ہے اور آج  یہ مقامات بھوت بستی بن چکے ہیں جہاں پر ہروقت رونق تھی۔

یہ کسی خطرناک وبا سے لڑنے کےلئے عالمی ردعمل ہے۔ لیکن یہ کب ختم ہوگا اور ہم کب اپنی زندگیوں کو معمول پر لا پائیں گے؟ اس کے بارے ابھی تک کچھ نہیں کہا سکتا۔

لیکن یہاں تک کہ اگر اگلے تین مہینوں میں متاثرین کی تعداد میں کمی آنا شروع ہوجائے پھر بھی ہم اس وبا کو ختم کرنے کے بہت دور رہیں گے۔

اس مصیبت اور اس سے ہونے والے اثرات سے باہر نکلنے میں بہت زیادہ وقت لگ سکتا ہے – ممکنہ طور پر کئی سال لگ سکتے ہیں۔

یہ واضح ہے کہ دنیا کی معیشت کے بڑے حصوں کو بند رکھنے کی موجودہ حکمت عملی طویل مدت کےلئے پائیدار نہیں ہے۔ جس کا معاشرتی اور معاشی نقصان تباہ کن ہوگا۔

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس اتنا جلدی غائب نہیں ہونے والا ہے۔

اگر معاشی تباہ کاریوں سے بچنے کےلئے ان پابندیوں کو ختم کیا جائے جو وائرس کو روک رہی ہیں تو پھر متاثرین کے تعداد ایک بار پھر بڑھ جائے گی۔

ایڈنبرگ یونیورسٹی میں وبائی بیماریوں کے ماہر پروفیسر مارک وول ہاؤس کا کہنا ہے کہ “ہمیں ایک بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کہ اس جانلیوا وبا سے کیسے نکلا جائے۔ یہ ایک بہت بڑا سائنسی اور معاشرتی چیلنج ہے۔

پروفیسر مارک وول نے اس وبا سے نکلنے کے تین طریقے بتائے ہیں۔

ویکسینیشن

ہرڈ امیونٹی

 مستقل طور پر ہمارے طرز عمل / زندگی کو تبدیل کریں

ان میں سے ہر راستے سے وائرس پھیلنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔

ویکسینیں – کم از کم 12-18 ماہ کی دوری پر ہے۔

ایک ویکسین کسی کے مدافعتی نظام کو زیادہ طاقتور کر دیتی ہے لہذا اگر وہ وبا کی زد میں بھی آ جائے پھر بھی بیمار نہیں ہوپائے گا۔

کافی لوگوں ، تقریبا 60 فیصد آبادی کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں ، اور اس طرح وائرس مزید پھیلنے کا سبب نہیں بن سکتا  اور بہت بڑی آبادی کو وبا سے بچایا جا سکتا ہے۔

پہلے شخص کو اس ہفتے امریکہ میں تجرباتی ویکسین دی گئی تھی جس میں  محققین کو پہلے جانوروں کے ٹیسٹ کرنے کے معمول کے اصولوں کو چھوڑنے کی اجازت دی گئی تھی۔

ویکسین کی تحقیق غیر معمولی رفتار سے ہو رہی ہے ، لیکن اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ یہ کامیاب ہوگی اور اس کو عالمی سطح پر حفاظتی ٹیکوں کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

بہترین اندازہ یہ ہے کہ اگر اس ویکسینیشن تیار کرنے کے عمل میں  سب کچھ معمول کے مطابق چلتا ہے تو ایک ویکسین کو آنے میں 12 سے 18 ماہ لگ سکتے ہیں اور یہ  ایک طویل انتظار ہے۔

پروفیسر وول ہاؤس نے بی بی سی کو بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ویکسین کے منتظر رہنے کو ہم حکمت عملی نہیں کہہ سکتے یہ کوئی حکمت عملی نہیں ہے ۔”

قدرتی مدافعتی نظام(Herd Immunity) کے تیار ہونے میں کم از کم دو سال کا وقت درکار ہوگا

ہرڈ امیونٹی (Herd Immunity) سے مراد ایسی صورتحال ہے جہاں ایک آبادی میں کافی لوگوں کو انفیکشن سے امیونٹی حاصل ہو تاکہ اس بیماری کو پھیلنے سے مؤثر طریقے سے روکا جا سکے۔

ہرڈ امیونٹی میں ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ یہ امیونٹی ویکسینیشن سے حاصل ہوئی ہے ، یا ان لوگوں سے جو یہ بیماری رکھتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ امیونٹی رکھتے ہیں۔

چونکہ زیادہ سے زیادہ لوگ COVID-19 ، وائرس کی وجہ سے ہونے والی بیماری میں انفیکٹیڈ ہوجاتے ہیں ، اس سے زیادہ ایسے افراد ہوں گے جو ٹھیک ہوجاتے ہیں اور جو مستقبل میں انفیکشن سے محفوظ رہیں گے۔

“جب تقریبا 70 فیصد آبادی انفیکٹیڈ ہوچکی ہو اور پھر اس سے صحتیاب بھی ہوچکی ہو تو اس بیماری کے پھیلنے کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں کیونکہ زیادہ تر لوگون کا قوت مدافعت  انفیکشن سے لڑنے کی قابلیت رکھتا ہے۔

لیکن امپیریل کالج لندن کے پروفیسر نیل فرگسن کے مطابق ، ایسا کرنے  میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

تیسرا طرز زندگی میں تبدیلی لانا ہے

پروفیسر وول ہاؤس کے مطابق تیسرا آپشن ہمارے طرز عمل میں مستقل تبدیلیاں ہیں جو وائرس کے پھلاؤ کی شرح کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

اس میں کچھ اقدامات شامل ہیں جس میں  ٹیسٹنگ کے اوپر سختی سے عمل کرنا اور مریضوں کو الگ تھلک رکھا جائے تاکہ وبا کی مزید پہلاؤ کو روکا جاسکے۔