کورونا وائرس کیا ہے؟ جس کے روکتھام کےلئے پوری دنیا میں الرٹ جاری کردیا گیا ہے

Health and Medicine
Coronavirus outbreak - Wuhan coronavirus outbreak

یہ وائرس چین کے ایک صوبے کی مویشی منڈی سے شروع ہوا تھا جو اب تک کافی ممالک میں پہل چکا ہے او اس وائرس کے 500 کے قریب کیس سامنے آچکے ہیں۔ جنوبی کوریا میں دو کیسز کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ تھائیلینڈ اور جپان میں بھی چار کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ متاثرہ افراد حال ہی میں چائنا کے ووہاں شہر سے واپس آئے تھے۔

اس وائرس کے مزید پہلنے سے روکھنے کےلئے سنگاپور اور ہانگ کانگ میں فضائی سفر کے ذریعے ووہاں سے آنے تمام لوگوں کی اسکرینگ کی جارہی ہے۔ جب کہ آمریکا ، آسٹریلیا، جپان، پاکستان، برطانیا اور کینیڈا سمیت بہت سارے ممالک نے اپنے ہوائی اڈوں پر ووہان سے آنے والے تمام مسافروں کےلئے اسکرینگ لیب لگا رکھے ہیں۔

کورونا وائرس کیا ہے:

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے حکام نے جب اس وائرس کے نمونوں کو ٹیسٹ کےلئے لیبارٹری بھیجا تو اس وائرس کی کورونا وائرس کے نام شناخت کئی گئی، حکام کے مطابق اس وائرس کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ان میں سے چھ اور ایک اس حالیہ وائرس کو ملا کر سات ایسی قسمیں ہیں جو انسانوں کو متاثر کرتی ہیں۔

سن 2002 میں چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے 774 افراد ہلاک ہوئے تھے اور مجموئی طور پر اس وائرس سے 8098 افراد متاثر ہوئے تھے۔

اس نئے وائرس کے جینیاتی کوڈ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ رسپائریٹری سنڈروم (سارس) سے ملتا جلتا ہے۔

کورونا وائرس متاثرہ شخص کے سانس کی رطوبت سے پہلتا ہے جیسے کھانسی وغیرہ کرنے سے۔ ہسپتالوں میں متاثرہ افراد کو رکھنے سے بھی اس وائرس کے پہلاو میں بڑہاوا آسکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس کے پہلنے میں جانوروں کا کردار سب سے اہم ہے لیکن اب یہ ایک انسان سے دوسرے انسان کے میل جول سے پہل رہا ہے۔ اور انسانوں کو چاہئے کہ احتیاتی تدابیر کیے بغیر جانوروں کے نزدیک نہ جائیں اور گوشت اور انڈے پکانے میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ٹھیک سے تیار کیے گئے ہیں اور اس کے علاوہ ان افراد سے دور رہیں جنھیں نزلہ یا اس جیسی علامات ہوں۔

وبا کے بارے میں تازہ ترین معلومات :

تازہ ترین رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس پہلنے سے اموات کی تعداد چھ ہوگئی ہے اس وقت کل چار ممالک میں پھیل چکا ہے جس سے چین مین 500 کے قریب افراد متاثر ہوئے ہیں۔

چین نے اس وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی تصدیق کی ہے اور یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ ملک میں اس وبا کی روکتھام اور کنٹرول انتھائی نازک مرحلے میں ہے۔

اس وائرس کے اندر تغیر (میوٹیشن) کی صلاحیت موجود ہے اس وجہ سے اس وبا کے مزید پہلنے کا خطرہ ہے۔ ایک ایسے مریض کے بارے میں بھی پتا چلا ہے جس نے 10 سے زائد افراد میں یہ وائرس منتقل کیا ہے۔

ووہان میں 15 کے قریب مریضون کی دیکھ بال کرنے والے کارکن بھی اس وبا کا شکار ہوچکے ہیں۔

کورونا وائرس کی علامات:

زیادہ تر کورونا وائرس کی علامات کسی دوسرے اوپری سانس والی بیماریوں سے ملتی جلتی ہیں، جس میں ناک بہنا ، کھانسی ، گلے کی سوزش اور کبھی کبھی بخار کا آنا بھی شامل ہے۔ اکثر معاملات میں آپ کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ آپ کو کورونا وائرس ہے یا سردی پیدا کرنے والا کوئی دوسرا وائرس جیسے رائنووائرس۔