زمین کا دوسرا چاند کتنا بڑا ہے اور کب تک ہماری زمین کے گرد گھومتا رہے گا؟

Space
The Earth Has a Second Moon

مائینر پلانیٹ سینٹر اریزونا آمریکا کے ماھرین نے بتایا ہے کہ ہماری زمین کے گرد ایک دوسرے چاند نے بھی گردش کرنا شروع کردیا ہے جو پچھلے تین سالوں سے زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے اس کے دریافت ہونے سے فلکیات کے ماھرین میں جوش وخروش بڑہ رہا ہے، اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ چھوٹا چاند ہمارے زمین کے بڑے چاند جتنا متاثر کن نہیں ہے اس کی سائز ایک سے چھ میٹر بتائی جارہی ہے۔

اس چاند کو سب سے پہلے 15 فروری کو ایریزونا کے شہر ٹکسن  کے قریب ماؤنٹ لیمون آبزرویٹری میں  دو میٹر بڑی دوربین کا استعمال کرتے ہوئے آمریکی ماہر فلکیات تھیئڈور پروین اور کیپر ویرزکوس نے دیکھا تھا۔ جس کو CD3 2020 کا نام دے دیا گیا ہے۔

فلکیات کے ماھرین کے مطابق یہ آبجیکٹ  بنیادی طور پر شہاب ثاقب(Asteroid) کی کلاس کا میمبر ہے جس کا مدار زمین کے مدار کو پار کرتا ہے اور کبھی کبھی وہ زمین کے قریب آتے ہیں یا زمین سے ٹکرا جاتے ہیں۔

 ماھرین کے مطابق یہ چاند ہماری زمین کے گرد زیادہ وقت تک ٹکے گا نہیں اور اگر یہ تباہ بھی ہوجاتا ہے تو ہماری زمین کو اتنا زیادہ نقصان نہیں دے گا کیوں کہ یہ اتنا چھوٹا ہے کہ زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں ٹوٹ جائے گا۔

ماھرین کے مطابق اس جیسے شہاب ثاقب زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتے کیوں کہ ہمارے بہت بڑے دائمی چاند اور سورج کی طرف سے کشش ثقل ان کے مدار کو غیر مستحکم بنادیتی ہے۔

انہوں مزید کہا ہے کہ اس کے راستے سے پتا چلتا ہے کہ یہ تین سال قبل زمین کے مدار میں داخل ہوا تھا۔

یہ ممکن ہے کہ ماضی میں لاکھوں اربوں سال پہلے زمین کے ایک سے زیادہ چاند تھے۔ نظام شمسی میں ایک سے زیادہ چاند ہونا کوئی عجیب بات نہیں ہے جیسے مشتری کو 67 چاند ہیں اور مریخ کے گرد بھی دو چاند گھومتے ہیں۔