ناسا نے ایک بڑے شہاب ثاقب (خلائی پتھر) کی تصویر شیئر کی ہے جو بدہ کے روز زمین کے قریب سے گذرے گا۔

Space
NASA shares photo of enormous asteroid that's set to skim past Earth this week

شہاب ثاقب(Asteroid OR2 1998) جس کا قطر 1.8 کلومیٹر سے 4.1 کلومیٹر کے درمیان بتایا جا رہا ہے، جو ایک اندازے کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی عمارت برج خلیفہ سے پانچ گنا بڑا ہوسکتا ہے۔ ناسا کے ماھرین کے مطابق یہ شہاب ثاقب بدہ کے روز زمین کے قریب سے گزرے گا۔

 جب کہ اس کے گذرنے سے پہلے ناسا نے اس خلائی پتھر کی تصویر بھی شیئر کی ہے، مزید کہنا تھا کہ یہ پتھر بدہ کے روز چاند اور زمین کے فاصلے کے 16 گنا دور سے گذرے گا جو تقریبا 3.9 ملین میل دور رہتا ہے۔

یہ OR2 1998 نامی خلائی پتھر ، 19,438 میل فی گھنٹے کے حیرت انگیز رفتار سے گزرے گا جو گولی کی رفتار سے 10 گنا زیادہ ہوتی ہے۔ ناسا کے مطابق اس خلائی پتھر کو کھلی آنکھ سے دیکھنا ناممکن ہے

تاہم ، روم میں واقع ورچیول ٹیلی اسکوپ 29 اپریل 2020 کو (OR2 1998) خلائی پتھر کو مفت دکھانے کی میزبانی کرے گا۔ تاکہ کہ اس پتھر کے یہاں سے گزرنے کو دیکھ سکیں۔ لیکن شکر ہے کہ اس بڑے شہاب ثاقب کے زمین سے ٹکرانے کے امکانات انتہائی کم ہیں، تاہم ناسا نے مستقبل قریب میں ان خلائی پتھروں کے زمین سے ٹکرانے کے امکانات کو ختم نہیں کیا ہے۔

ناسا ہر ھفتے 30 کے قریب زمین کے مدار میں اس قسم کے خلائی پتھروں کی دریافت کرتا ہے، جس کی تعداد 2019 کے آغاز میں مجموئی طور پر 19,000 سے زیادہ بتائی جارہی تھی۔