آمریکی نجی خلائی ایجنسی اسپیس ایکس کا خلائی شٹل بین القوامی خلائی ایجنسی سے منسلک ہوگیا ہے

Space
SpaceX Crew Dragon Docks With International Space Station

اسپیس ایکس کریو ڈریگن کیپسول ناسا کے دوخلابازوں کو لےکر اتوار کے روز بین القوامی خلائی اسٹیشن سے منسلک ہوگیا ہے، واضح رہے کہ یہ ایک دہائی کے بعد آمریکی زمین سے پہلا خلائی جہاز ہے جو خلائی اسٹیشن سے منسلک ہوا ہے۔

یہ کریو ڈریگن آمریکی نجی کمپنی اسپیس ایکس نے بنایا تھا۔ آمریکی خلائی ایجنسی ناسا نے امید ظاھر کی ہے کہ مستقبل میں خلائی سفر کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے۔

اسپیس ایکس کے سی ای او الون مسک کا کہنا ہے کہ میرے لئے یہ ایک جذباتی لمحہ ہے کیوں کہ میں میرے خوابوں کی تعبیر کومکمل ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اوراس مقصد کےلئے کام کرتے ہوئے 18 سال ہوچکے ہیں، امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مریخ پر تہذیب کی سمت سفر کا پہلا قدم ہے۔

 بین القوامی خلائی اسٹیشن سے اس کریو ڈریگن سے ملنے کا وقت 10:16 am(Eastern Time) تھا۔  اس وقت بین القوامی خلائی اسٹیشن منگولیا اور شمالی چین کے سرحد پر 262 میل کی اونچائی پر چکر لگا رہی تھی۔

مقرر وقت سے چند منٹ پہلے دونوں خلائی شٹل آپس میں جڑ گئے اور دونوں کی گرفت سخت ہوگئی تھی اور اسپیس کرافٹ کے کمانڈر ہرلی نے کہا ، “ہم کاپی کرتے ہیں، ڈاکنگ مکمل ہوگئی ہے۔”

اسپیس ایکس کے فیلکن 9 راکٹ نے ہفتے کے روز فلوریڈا کے کینڈی اسپیس سینٹر سے اپنے خلائی سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس ڈریگن میں سوار آمریکی شہری باب بھنکھن اور ڈوگ ہرلی جو اسپیس شٹل پروگرام کے تجربے کار خلاباز ہیں۔

یاد رہے کہ ڈریگن کیپسول نے 19 گھنٹے خلا میں بین القوامی خلائی اسٹیشن کا پیچھا کرتے ہوئے گذارا ہے جو 28,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی، جب کہ خلائی اسٹیشن کے نوڈ سے اسپیس کرافٹ کی ڈاکنگ کا طریقیکار کافی نازک ہوتا ہے ۔

جب ان خلابازوں کا 110 دن کا قیام ختم ہوجائے گا تو خلاباز دوبارہ اس اسپیس شٹل میں سوار ہوجائیں گے اور زمین کی طرف پہنچیں گے۔  اس ڈیمو 2 نامی ٹیسٹ مشن کا ہدف یہ ظاہر کرنا ہے کہ اسپیس ایکس کے خلائی جہاز خلائی سفر کرنے کےلئے محفوظ ہیں۔

اگر ناسا اس مشن سے مطمئن ہوجاتی ہے تو پھر خلائی اسٹیشن میں خلائی عملے کو بڑہا کے تحقیق کرنے کی صلاحیت کو بڑہایا جا سکتا ہے۔ اور اس دوران اسپیس ایکس اپنے خلائی جہاز میں نجی خلابازوں کو اڑانے کی صلاحیت حاصل کرلے گی۔