پاکستان کے میدانی علائقوں میں روشن ہونے والی تاروں کی قطار کیا تھی؟

Space
SpaceX's 60 New Starlink Satellites night view

بارہ نومبر، 2019 کی رات کو پاکستان کے بہت سارے میدانی علائقوں میں روشن سیٹلائیٹس کی ایک قطار دیکھی گئی جس کو آمریکا کی ایک پرائیوٹ کپمنی اسپیس ایکس (SpaceX) نے خلا میں چھوڑا تھا جو کچھ ٹائیم تک روشن تھی اور بعد میں دیمھی ہو گئی۔

اس مشن کا مقصد سیٹلائیٹس کی مدد سے گلوبل ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کا رول آئوٹ کرنا ہے۔ اس مشن کے لیے فیلکون 9 راکیٹ کو کیپ کیناوریل فلوریڈا سے پیر کو خلا میں لانچ کیا گیا ہے۔ جس سے 60 سیٹلائیٹس کو خلا میں میں چھوڑا گیا ہے اور وہ سیٹلائیٹس زمین پر صارفین کو ھائی اسپیڈ انٹرنیٹ مھیا کریں گے۔

الون مسک کی کپمنی اسپیس ایکس کا دعوہ ہے کہ وہ اگلے سال شمالی آمریکا اور کینیڈا میں اس سیٹلائیٹس انٹرنیٹ سروس کا آغاز کردیں گے جب کہ گلوبل سطح پر کوریج کےلیے 24 لانچوں میں 12000 سیٹلائیٹس کو زمین کے مدار میں چھوڑا جائے گا۔

SpaceX's 60 New Starlink Satellites
SpaceX’s 60 New Starlink Satellites

آمریکی خبر رساں اداری کی ویبسائیٹ اسپیس ڈاک کام کے مطابق کھلی آنکھ سے نظر آنے کا مقصد ان سیٹلائیٹس کو 350 کلومیٹر کی رینج میں چھوڑا گیا ہے جن کو اصل میں 550 کلومیٹر تک چھوڑنا تھا، اس سے پہلے مئی میں چھوڑے جانے والے سیٹلائیٹس کو 450 کلومیٹر کی رینج میں چھوڑا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کی روشنی کو آنے والے کافی دنوں تک دیکھا جائے گا۔ جب کہ فلکیات کے ماھرین نے شکایت کی ہے کہ روشن مصنوئی سیٹلائیٹس سائنسی مشاہدات کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

ان تمام سیٹلائیٹس کو 500 کلومیٹر سے 1000 کلومیٹر تک کے لو آربٹ میں چھوڑا جائے گا جو انٹرنیٹ میں لیٹینسی اور دیر کو کم کردے گا۔ اس مشن کے ہر سیٹلائیٹ کا وزن 227 کلوگرام ہے اور اس کے علاوہ High-throughput antennas اور single solar Array بھی لگا ہوا ہے جو انٹرنیٹ کی اسپیڈ کو زیادہ بہتر کریں گے۔

اور ان سیٹلائیٹس کو Electric propulsion سے لیس کیا گیا ہے یہ Propulsion system خلا میں سیٹلائیٹ کی صحیح پوزیشن برقرار رکھنے اور جب سیٹلائیٹ کی لائیف ختم ہو جائے گی تو نیچے اتارنے میں مدد کرے گا۔

اس کے علاوہ برطانیا کے ایک اسٹارٹ اپ OneWeb نے بھی فروری میں ھائی اسپیڈ انٹرنیٹ کےلیے 6 سیٹلائیٹس کا رول آئوٹ کردیا تھا۔ آن لائین رٹیلر امیزون نے بھی اس فیلڈ میں آنے کا شوق دکھایا ہے اور یہ 3200 سیٹلائیٹ کی ایک پروجیکٹ پہ کام کررہا ہے ، اس پروجیکٹ کو Kuiper کے نام سے جانا جاتا ہے۔