ایسا سسٹم جو پتا لگا سکتا ہے کہ آسمانی بجلی کہاں گرے گی؟

Technology
Lightening strikes prediction

آسمانی بجلی فطرت کا ایک انتہائی غیر متوقع واقعہ ہے یہ عموما لوگوں اور جانوروں کو ہلاک کرتا ہے، گھروں اور جنگلات میں آگ لگاتا ہے کبھی کبھی اڑنے والے طیاروں کو بھی بہت بڑا نقصان پہچاتا ہے اور اس کے علاوہ بجلی کی لائیںوں، ونڈ ٹربائنز اور شمسی پینلس کو بھی نقصان پہچاتا ہے۔

تاہم اس کے بارے میں بہت ہی کم معلومات ہے کہ بجلی سے کون سی حرکت آتی ہے؟ اور اس کی پیشنگوئی کرنے کےلیے کوئی ٹیکنالاجی موجود نہیں ہے کہ بجلی کب اور کہاں گرے گی۔

لیکن اب ای پی ایف ایل کے اسکول آف انجینئرنگ سئیزرلینڈ کے محققین نے ایک ایسا آسان اور سستا سسٹم تیار کیا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آسمانی بجلی 10 سے 30 منٹ کے اندر 30 کلومیٹر کے دائرے میں کہاں گرے گی۔ اصل میں یہ سسٹم میٹریولوجیکل اعداد و شمار اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتا ہے۔

ای پی ایف ایل کے محققین کا بنایا ہوا یہ سسٹم مشین لرنگ الگورتھم کا استعمال کرتا ہے جو آسمانی بجلی کو جنم دینے والے حالات کو پہچاننے کی قابلیت رکھتا ہے۔ اس الگورتھم کو مزید موثر بنانے کےلئے محققین نے سوئیزرلینڈ کے میٹریولوجیکل اسٹیشن سے دس سال کے عرصے میں جمع کردہ اعداد وشمار کا استعمال کیا جس میں شہری اور دیہی دونوں علائقوں کے اعداد و شمار شامل تھے۔

یہ سسٹم چار پیرامیٹرز کو مدنظر رکھتا ہے جس میں ایٹماسفرک پریشر(Atmospheric Pressure)، ایئر ٹیمپریچر(Air Temperature)، رلیٹو ہیومیڈٹی(Relative humidity)، اور ہوا کی اسپیڈ(Air Speed) شامل ہیں۔ ان چار پیرامیٹرز کا استعمال کرتے ہوئے یہ الگورتھم بتا سکتا ہے کہ بجلی کب گرے گی۔

یہ پہلا ایسا سسٹم ہے جو بلکل سادہ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار سے موازنہ کرکے اور آخری نتائج کا ریئل ٹائم میں تخمینہ لگاکے  90 فیصد صحیح رزلٹ دیتا ہے اور بتا سکتا ہے کہ بجلی کب اور کہاں  گرے گی۔