آخرکار روبوٹ میں احساس کرنے کی قابلیت آگئی

Technology
Biologically-inspired skin

ٹیکنیکل یونیورسٹی آف میونخ جرمنی کے محققین ایسی مصنوئی روبوٹک اسکن بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو روبوٹس کو اپنے اردگرد کسی بھی چیز سے چھونے کا احساس دلانے کے قابل بناتی ہے۔ یہ اسکن روبوٹس اور انسانوں کے بیچ میں احساس دلانے کی صلاحیت پیدا کرے گی۔

ماھرین کی ٹیم نے انسانی جلد سے متاثر ہوکر اس مصنوئی جلد کو کنٹرول الگورتھم کے ساتھ جوڑا ہے جو مصنوئی جلد کے ساتھ دنیا کا پہلا ہیومنوڈ(humanoid) روبوٹ ہوگا۔

یہ جلد ھیگزاگونل خلیوں سے بنائی گئی ہے ہر خلیہ مائکروپروسیسر اور سینسر سے لیس ہے جو چھونے، درجہ حرارت اور تیزی کا پتا لگا سکتا ہے جس سے روبوٹ میں زیادہ حساسیت آتی ہے جو گردونواح کا پتا لگانے کے قابل بناتی ہے۔ اس سے نہ صرف انہیں محفوظ طریقے سے منتقل ہونے میں مدد ملتی ہے بلکہ لوگوں کے قریب کام کرتے وقت بھی اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے قابل بناتی ہے اور انہیں پیش گوئی کرنے اور اس سے ہونے والے حادثات سے بچنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔

ماضی میں روبوٹ کی جلد بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ کمپیوٹنگ کیپیسٹی رہی ہے ، لیکن اب اس پریشانی کو قابو پانے کےلیے نیورو انجینئرنگ اپروچ کو استعمال کیا گیا ہے جو مائکروپروسیسر کی پروسیسنگ اسپیڈ کو 90 فیصد کم کردیتی ہے۔

اس ایچھ ون(H1) نامی روبوٹ میں1260 خلیات اور 13000 سے زائد سینسر لگائے گئے ہیں جو روبوٹ کو نیا جسمانی احساس دلانے میں مدد کرتے ہیں۔ اس کا استعمال صنعتی کاموں میں شاید نا ہوپائے۔ لیکن یہ روبوٹ نرسنگ کیئر جیسے کاموں میں لوگوں کے ساتھ بہت قریبی رابطے کے ساتھ کام کرسکتا ہے۔