کیا انسان کے چلنے پہرنے سے پیدا ہونے والی توانائی سمارٹ فون چارج کر سکتی ہے؟

Technology
Body motion energy harvester

سوگانگ یونیورسٹی جنوبی کوریا کے محققین نے ایک ایسا آلہ بنایا ہے جو جسمانی تحرک یعنی جسم کے ہلانے اور انسان کے چلنے پھرنے سے توانائی پیدا کرے گا جو میڈیکل ویئرایبل ، اسپورٹس باڈی سینسرز، نیٹورکس سے لیکر موبائل فون کی بیٹری کو بھی چارج کرسکتا ہے۔

جس کو کپڑوں کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے۔ اس ڈزائن کا مقصد میڈیکل اور دیگر ویئرایبل ڈوائیسز کےلئے توانائی فراہم کرنا ہے۔

ویئرایبل ڈوائیسز کی بڑہتی ہوئی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف پاور سورسز تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر فیوچر میں بیٹری کی چارجنگ یا تبدیل کرنے کی ضرورت نا پڑے۔

خوش قسمتی سے انسانی جسم توانائی کے متعدد ممکنہ وسائل مہیا کرتا ہے جس میں حرارت(Heat) اور حرکت(Motion) بھی شامل ہیں اس ڈزائن کو جسم پر پٹی کی طرح لگایا جاتا ہے یا لباس میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ یہ جسم کی کم سے کم حرکت سے بھی توانائی پیدا کرسکتا ہے۔

اس ڈوائیس میں پولیمر پیزو الیکٹرک فلم کو استعمال کیا گیا ہے جو لچکیدار ہے اور یہ فلم انسان کے جسم کے حرکت میں آنے سےتوانائی پیدا کرتی ہے۔

لیب میں حاصل کردہ نتائج سے ٹیم نے پتا لگایا ہے کہ جسمانی طور پر پہنے ہوا 10×10 سینٹی میٹرکا پیچ کئی سئو ملی واٹ توانائی پیدا کرسکتا ہے جو کچھ ہیئرنگ ایڈز (Hearing aids)، پیس میکرز (pacemakers)، نیورولوجیکل امپلانٹس کو چارج کرسکتا ہے اور اس کے علاوہ یہ آلہ سمارٹ فون اور سمارٹ واچ کو چارج کرنے کےلئے بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

طویل مدت کےلئے ٹیم متوازی اور سیریز میں مختلف حصوں کو جوڑنے کے ذریعے زیادہ آئوٹ پٹ پاور حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

بنانے والی ٹیم کے ایک میمبر نے کہا ہے کہ مستقبل میں سمارٹ فونز اور دیگر کسی بھی قسم کی ویئرایبل کو باڈی موشن سے بغیر کسی بیرونی چارجر کے چارج کیا جا سکے گا اور اس کے علاوہ ماہریں کا ماننا ہے کہ آنے والے وقت میں سمارٹ فون بھی ویئرایبل ڈوائسز اور سمارٹ کلوتھز میں تبدیل ہوجائیں گے۔