کیا عمارتین بھی بجلی پیدا کریں گی

Technology
building-integrated photovoltaics

سئیزرلینڈ کی ای پی ایف ایل نامی کمپنی ایک ایسے پروجیکٹ کے اوپر کام کررہی ہے جو مستقبل میں بنائے جانے والے گھرون کو انرجی پروڈیوسر بنائے گی یعنی گھروں کی عمارتین توانائی پیدا کریں گی۔ اس قسم کے مٹریئل کا نام فوٹووولٹائیکس (Photovoltaics) ہے جو بلڈنگس کے تعمیراتی منصوبوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ ایک یورپی یونین کی تحقیقی پروجیکٹ ہے جس کو ایک سئیز کمپنی لیڈ کررہی ہے۔ جس کا مقصد عمارتون کی تعمیرات میں فوٹووولٹیکس کے استعمال کو تیز کرنا اور 2030 تک اس کے اخراجات میں 75 فیصد کمی کرنا ہے۔ یہ پروجیکٹ یورپی یونین کے اس منصوبی کا حصہ ہے جس میں 2020 تک نئی عمارتوں میں انرجی کا استعمال تقریبا زیرو ہو۔
بی سمارٹ نامی اس پروجیکٹ کے پارٹنرز ایک ایسے ملٹی فنکشنل سولر پینلز کے ڈزائن کے اوپر کام کررہے ہیں جو نا صرف توانائی پیدا کرے گا بلکہ دیگر تعمیراتی کاموں کے لیے بھی استعمال کیا جائےگا۔ اس پروجیکٹ کےلئے استعمال ہونے والی فوٹو وولٹیک ٹیکنالاجی کرسٹلائن سلیکان پر مبنی ہے جو زیادہ تر سولر پینل میں پائی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ (Building-integrated photovoltaics)BIPV کے ساتھ کسی بلڈنگ کو بنانا پہلے بھی ممکن ہے۔سئیزرلینڈ میں اس طرح پہلے ہی 10000 سے زیادہ عمارتوں کی چھتیں تعمیر کی جا چکی ہیں۔ فوٹو وولٹک پینل مختلف شکلوں اور رنگوں میں بھی دستیاب ہے لیکن اب تک اس ٹیکنالاجی کا استعمال سست اور ہچکچاہٹ کا شکاررہا ہے لیکن اب اس فیلڈ ایک خاطر خواہ تیزی نظر آرہی ہے۔ اگرچہ بہت سارے لوگوں کا ماننا ہے کہ BIPV کے استعمال سے تعمیراتی لاگت بڑہ جاتی ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو اضافی اخراجات 10 سے 30 سالوں میں واپس ادا ہو جاتے ہیں اور دوسری بات اس کے استعمال سے کاربان کے اخراج میں کمی ہوجائے گی۔