کورونا وائرس موبائل ایپ کیسے وائرس سے متاثرہ لوگوں کے بارے میں معلومات دیتا ہے؟

Technology
Mobile App in China to Track Coronavirus

چین کے محققین نے ایک ایسی موبائل ایپ بنائی ہے جو لوگوں کو کورونا وائرس کے بارے میں باخبر رکھتی ہے اور جیسے اگر وہ کسی متاثرہ مریض کے پاس بھیٹھے ہیں، رابطے میں ہیں یا پاس گذر رہے ہیں تو ان کو متنبہ کرتی ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق “قریبی کانٹیکٹ کا پتا لگانے والا” (Close contact detector) نامی ایپ کو ھفتے کے روز رلیز کیا گیا ہے جس میں صارفین وی چیٹ(WeChat) اور کیوکیو(QQ) جیسی مشھور چینی ایپس کی طرح کیو آر کوڈ اسکین کرتے ہیں اور اپنا نام ، فون نمبر اور حکومت سے جاری کردہ شناختی کارڈ نمبر کی معلومات فل کرتے ہیں تاکہ اس بارے میں معلومات کی درخواست کریں کہ آیا وہ وائرس سے متاثرہ شخص سے قریبی رابطے میں ہیں یا نہیں۔

ایک بار جب صارفین اپنا نام اور شناختی کارڈ نمبر ایپ کے اندر داخل کرین گے تو یہ ایپ انہیں بتائے گی کہ آیا وہ متاثرہ کسی شخص کے ساتھ رابطے میں تھے یا نہیں، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہر رجسٹرڈ فون نمبر تین مختلف شناختی کارڈ نمبروں کی تلاش کرسکتا ہے۔

اگر ایپ نے پتا لگایا کہ صارف کو خطرہ لاحق ہے تو انہیں گھر میں رہنے یا مقامی محکمہ صحت سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔

بنانے والی کمپنی سی ای ٹی سی نے کہا ہے کہ اسی ایپ کو بنانے کےلئےمتعدد سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کو استعمال کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق نیشنل ہیلتھ کمیشن، وزارت ٹرانسپورٹ، چین ریلوی اور سول ایویئیشن اتھارٹی چائنا کے اعداد و شمار بھی شامل ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق چینی حکام انفرادی مریضوں اور مشتبہ معاملات کی ریئل ٹائیم میں نگرانی کےلئے اس ایپ کے ساتھ ساتھ چہرے کی شناخت کے سافٹ ویئر(Facial Recognition Software) کا بھی استعمال کررہی ہے۔

چینی حکام نے نانجنگ شہر میں ایک متاثرہ شخص کو لمحہ بہ لمحہ ٹریک کیا اور مریض کے سفر کے بارے میں تفصیلات سوشل میڈیا پر شایع کردی تاکہ رہائشیوں کو متنبہ کیا جا سکے کہ اگروہ راستے عبور کرتے ہیں تو وہ انفیکشن کا شکار ہوسکتے ہیں۔

ماھرین کے مطابق اگرچہ چین کی شہریوں کے اوپر نگرانی کو عام طور پر ریاستی جبر سمجھا گیا تھا اور پوری دنیا میں اس عمل کی مذمت کی گئی تھی لیکن اب اس نظام کوبہت مفید سمجھا جارہا ہے جو حقیقی وقت میں متاثرہ لوگوں کے بارے میں صحیح معلومات فراہم کرسکتا ہے۔

یہ وائرس اب وسطی چین کے مرکز ووہاں سے لےکر تقریبا پورے چین اور بین القوامی سطح پر پھیل چکا ہے، جس میں چالیس ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور ایک ھزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔