اب دماغی لہروں سےسوشل میڈیا اکائونٹس کو کنٹرول کیا جائے گا۔

Technology

کیلیفورنیا : یونیورسٹی آف کیلیفورنیا بارکلی کے ماھریں ایک ایسے منصوبے  کے اوپر کام کررہے ہیں جس میں کسی بھی قسم کا لاگ ان کرنے کے لئے انسانی دماغ کا استعمال کیا جائے گا۔

مستقبل میں انسانی دماغ کی لہریں  سائبر ہیکرز کے خلاف بہت بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے اور انٹرنیٹ صارفین  اپنے دماغ کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ای میل یا سوشل میڈیا اکائونٹس میں لاگ ان ہو پائیں  گے۔

اس وقت دو چینل والی اتھینٹیکیشن  (authentication) کو اھمیت دی جاتی ہے جس میں صارف کو لاگ ان یا ٹرانزیکشن کرنے کے لئے ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے کوڈ بھیج دیا جاتا ہے لیکن آنے والے وقت میں ھیکرز شاید اس کا بھی حل نکال لیں۔ بیسٹی کوپر ڈاریکٹر Aspen Institue کے مطابق دماغ کی لہروں(waves)  کا استعمال کرتے ہوئے اس کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

ایک مخصوص پاس ورڈ کے بارے میں سوچنے سے کسی شخص کے دماغ میں لہروں کا ایک پیٹرن بن جاتا ہے جس کی مدد سے سمارٹ فون انلاک اور اکائونٹ میں لاگ ان کیا جا سکتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق 2017 میں گلوبل کرمینل ھیکنگ میں 600 بلین ڈالر  خرچ کیئے گئے جو گلوبل جی ڈی پی کا 0.8 فیصد حصا بنتا ہے مطلب کہ  اس ٹیکنالاجی آنے کے بعد  گورنمینٹ اور کمپنیز کو بہت بڑا فائدہ ھوگا۔

آپ کو ایک چھوٹا سا ڈوائیس لینا ہوگا جو Earbud کی طرح ہو جس کو اپنے کان میں لگانا ہوگا اور ایک پاس ورڈ فریز سوچو اگر آپ اس کو رپیٹ کرتے ہو تو آپ کی وہ دماغی لھر آپ کا پاس ورڈ بن جائی گی۔

جیساکہ یہان پر تیں فیکٹرز ہیں سب سے پہلے آپ کے کان میں فزیکل ڈوائیس ہوتی ہے اور دوسرا آپ کو فریز سوچنا پڑتا ہے اور تیسرا رپیٹ کیا جانے والا دماغی لہروں کا پیٹرن۔  

مثال کے طور پر اگر میرا پاسورڈ فریز ہے ” اسٹیفن کے پاس چھوٹا دمبا تھا”   اور میں لاگ ان کرنی کی کوشش کر رہا ہوں تو میرا لاگ ان تب ہی ہو پائے گا جب میری دماغی لھر اس پیٹرن سے میچ ہوگی اگر میں دوسری فریز بولون گا تو ویو میچ نہیں ہو پائے گی اور لاگ ان نہیں ہو پائے گا۔ جب کہ سائبر ھیکنگ  میں اس وقت فنگرپرنٹ کوھائی ریزولیشن والے فوٹوز اور 3d printer سے تبدیل کیا جا سکتا ہے ، ماھرین کا کہنا ہے کہ مستقبل  میں  یہ ٹیکنالاجی بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی۔