سولر پینل کی طرح ڈیوائس جو رات کے اندھیرے بھی میں بجلی پیدا کرسکتا ہے

Technology
SOLAR PANEL-LIKE DEVICE CAN GENERATE ELECTRICITY IN THE DARK



شمسی توانائی کے پینل دن کے وقت سورج سے توانائی حاصل کرنے کےلئے بہت اچھا وسیلا ہے ۔ لیکن جب سورج غروب ہوتا ہے تو وہ دہات کے مھنگے پلیٹس کسی کام کے نہیں رہتے ہیں۔

لیکن اب ایک نئی ایجاد جو اندھیرے میں بھی رنیوایبل انرجی پیدا کرسکتی ہے۔ نیویارک ٹائیمس کے رپورٹ کے مطابق ایل ای یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں الیکٹریکل انجنیئر آسوتھ رمن نے ایک ایسا ڈوائیس بنایا ہے جو رات کے اندھیرے میں بھی توانائی حاصل کرکے لی ای ڈی لائیٹ کو روشن کرسکتا ہے۔ جو رنیوئیبل انرجی کے میدان میں ایک نئے محاذ کی شروعات ہے۔

اس ڈوائیس کو اسٹائروفوم (Styrofoam) اور الیومینیم سے بنایا گیا ہے جو بہت آسانی سے مل جاتا ہے۔ یہ ڈوائیس ریڈیوایکٹو کولنگ کا فائدہ اٹھاتا ہے جس میں بہت ساری ایسی چیزوں  کو استعمال میں لایا گیا ہے جو سورج غروب ہونے کے بعد گرمی یا ہیٹ کو چھوڑتے ہیں۔

ڈوائیس کے اوپر والا حصہ نیچے والے حصے سے زیادہ تیزی سے ٹھنڈا ہوجاتا ہے جس وجہ سے تھرموالیکٹرک جینریٹر اس درجہ حرارت کے اتارچڑہاؤ کو بجلی میں تبدیل کردیتا ہے۔

جب کہ آپ سب کو پتا ہوگا کہ تھرموڈینامکس کے قوانین کے مطابق ہر چیز رات کے وقت گرمی کا اخراج کرتی ہے ، جب زمین کا ایک رخ سورج سے ہٹ جاتا ہے ، تو اس حصے کی عمارتیں ، گلیاں اور جیکٹ کے سوا لوگ وغیرہ ٹھنڈا ہوجاتے ہیں۔ اگرآسمان میں کوئی بادل موجود نہیں ہوتا ہے تو زمین پر موجود ہرچیز اتنی ٹھنڈی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کی ہوا سے کم درجہ حرارت پر پہنچ جاتی ہے۔

انسانوں نے اس طریقے سے ہزاروں سال تک فائدہ اٹھایا ہے۔ آج سے چھ ہزار سال قبل ایران اور افغانستان کے لوگوں نے یخچل نامی بہت بڑے ڈھانچے تعمیر کیے  تھے جو ریگستان میں برف پیدا کرنے اور ذخیرہ کرنے کے لئے اس غیر فعال کولنگ اثر کا استعمال کرتے تھے۔