کیا دبئی 2025 تک تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالاجی کا حب بننے جارہا ہے؟

Technology
3d printed buildings in dubai

دبئی جو اسکائی ریپر اور اس کی امیر ترین آبادی کے حساب سے پوری دنیا میں مشہور ہے اور جس کا شمار دنیا کے بہترین شہروں میں ہوتا ہے ۔ کچھ دن پہلے دبئی کے نائب صدر اور وزیراعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے دبئی تھری ڈی پرنٹنگ اسٹریٹجی کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے 2030 تک دبئی تھری ڈی پرنٹیڈ بلڈنگ کے طور پہ جانا جائے گا۔

دبئی میونسپلٹی کے نئے ریگیولیشن کے مطابق 2025 تک دبئی میں ہر عمارت 25 فیصد تھری ڈی پرنٹیڈ ہوگی۔ اور اس کو جنوری 2020 سے عمل میں لایا جائے گا جب کہ دبئی ہیلتھ اتھارٹی نے بھی صحت کے شعبے میں تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالاجی کے استعمال کو باقاعدہ مرتب کرنے کا عہد کیا ہے۔ جس میں 2020 کے بعد تمام تر کلینکس اور ہسپتالوں میں تھری ڈی پرنٹیڈ مصنوئی اعضاء، تھری ڈی پرنٹیڈ دانت، ہڈیوں، میڈیکل اور سرجیکل آلات اور سمات والے ایڈز کے بارے میں کھوج کی جائے گی۔

اس بڑے پروجیکٹ کےلیے دنیا کی الگ الگ کمپنیاں کام کررہی ہے جس میں ایک سب اہم سمجھی جانے والی اسپینش کمپنی ایکیونا (ACCIONA) ہے جو ایک انفراسٹکچر مینیجمینٹ کمپنی ہے جس نے حال ہی میں دبئی میں اپنا پہلا گلوبل تھری ڈی پرنٹنگ سینٹر بھی کھولا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو یہ بھی ایک گرین ٹیکنالاجی کا حصہ ہے اس وقت کنسٹرکشن کے تمام پروجیکٹس پر سیمینٹ کا استعمال ہوتا ہے گھروں، اسکولوں، سڑکوں سے لے کر ڈیموں تک سیمینٹ دنیا کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا رسورس ہے۔ محققین کے مطابق سیمینٹ فیکٹریزسے خارج ہونے والا کاربان دنیا کے کاربان ڈائی آکسائیڈ کے ٹوٹل اخراج کا 8 فیصد حصہ ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالاجی تعمیراتی اخراج میں 50 فیصد سے 70 فیصد کے درمیان کمی کرے گی۔ اور لیبر کے اخراجات میں 50 فیصد سے 80 فیصد کمی واقع ہوگی۔ اس کے علاوہ اس ٹیکنالاجی کی مدد سے تعمیراتی کاموں میں پیدا ہونے والے کچرے کو 60 فیصد تک کم کرنے میں مدد ملے گی۔

اندازے کے مطابق تھری ڈی پرنٹنگ کی عالمی مارکیٹ 2020 تک 120 بلین آمریکی ڈالر اور 2025 تک تقریبا 300 بلین آمریکی ڈالر تک پہچنے کی توقع کی جارہی ہے۔