دنیا میں سب سے پہلے کمرشل الیکٹرک طیارے نے اپنی پہلی پرواز لے لی ہے۔

Technology
First electric plane

دنیا کے پہلے مکمل الیکٹرک کمرشل ہوائی جہاز نے منگل کے روز پہلی آزمائشی پرواز کے طور پر کینیئڈا کے شہر وینکوور سے اڑان بھرلی ہے۔ بنانی والی ٹیم نے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں ایئر لائنز ایک دن اپنے آلودہ اخراج کو مکمل ختم کردیں گی۔

روئی گنجرسکی (Seattle-based engineetring firm magniX) کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ اس پرواز سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اب الیکٹرک شکل میں ہوائی سفر کام کرسکتا ہے۔

سول ایویئیشن کاربان کے اخراج میں تیزی سے بڑہاوا کر رہا ہے۔ اس کے اخراج سے گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلیاں ہمارے ماحول پہ اثرانداز ہورہی ہیں۔ جس سے نا صرف طوفانوں اور سمندری سطح میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ دنیا کے بہت سارے حصے سخت خشک سالی کا سامنا کررہے ہیں۔

اس ای-پلین(E-Plane) کو چھ مسافر والا DHC-2 ڈی ہیولینڈ بیور سیپلین برقی موٹر سے چلایا گیا.  جس کو ہاربر ایئر کے بانی اور چیف ایگزیکٹو گریگ میک ڈوگل نے پہلی بار آزمایا. جائے وقوعہ پر موجود لوگوں کے مطابق یہ پرواز 15 منٹ تک چلتی رہی۔

اس ای- پلین کو قابل اعتماد اور محفوظ ہونے کی تصدیق کےلئے مزید مراحل سے گذرنا پڑے گا. اس کے علاوہ اس جہاز میں استعمال ہونی والی الیکٹرک موٹر کو بھی ریگیولیٹر سے تصدیق ہونا باقی ہے۔

بیٹری پاور بھی ایک چیلینج ہے۔ گنجرسکی نے بتایا ہے کہ منگل کے روز اڑنے والے طیارے لیتھیم بیٹری کی طاقت سے صرف 160 کلومیٹرتک پرواز کرسکتا ہے۔ اب اس مشن کو مزید آگے لےجانے کی ضرورت ہے. مزید کہنا تھا کہ مستقبل میں بیٹریز کا طویل عرصے تک پاور کا رکھنے والا مسئلہ حل ہوجائے گا. اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ ای پلین کا اڑان بھرنا کسی انقلاب سے کم نہیں ہے۔