ایک ایسا آلہ بنایا گیا ہے جو ماحول سے بایوویپنس کا سراغ لگا سکتا ھے

Technology

جینیٹکس کی بڑھتی ھوئی تحقیق نے جینیاتی ترمیم(Genetic editing) کو آسان اور سستا بنا دیا ہے اور یہ بات قابل ئی فکر بنتی جا رہی ہے کہ مستقبل میں جینیاتی ترمیمی اصول(Genetic Modification technic)  کا استعمال کرتے ہوئے بہت بڑی تعداد میں بایوویپنس نہ بنائے جائیں۔ ۔۔۔۔اور اس طرح کی مصنوئی جین ڈرائیو سے پوری آبادی میں میوٹیشن(mutation) پھلائی جا سکتی ہےاگر اس قسم کی میوٹیشن پہل جائے تو شاید انسان کے لئے کنٹرول کرنا ناممکن ھو اور ساری انسانیت کےاندر بیماریان پہلاکے اور اھم عضوو کو بھی ختم کیا جا سکتا  ہے، جس طرح 2018 میں آنی والی ھالی ووڈ کی مووی رامپیج میں دکھایا گیا ہے۔ سو اس قسم کی ڈرائیو کا سراغ لگانے کےلیے ماھریں نے ایک ایسا ھینڈ ھیلڈ ڈوائیس بنالیا ھے جو جین ایڈیٹنگ کا استعمال کرتے ھوئے بنائے جانے والے بایوویپنس کوپھلنے سے پہلے پتالگا سکتا ہے

جیسا کہ سائنس و ٹیکنالاجی انسان کی بھلائی کے لیے بہت آگے نکل چکی ہے اسی طرح انسان کی تباھی کےلیے بھی نت نئے نئے ہتھیار بن رہے ہیں، پہلے ائٹم بم آیا، اس کے بعد ھائڈروجن بم آیا اس کے بعد کئی کیمیکل ویپنس بھی بنائے گئے لیکن اب بایو ویپنس بنائے جا رہے ہیں۔ جس میں جین ایڈیٹنگ ٹول CRISPR کا استعمال کیا جا سکتا ھے۔ جس سے ڈی این ای کی کوڈنگ کو کو تبدیل کرکے جینیاتی موروثیت کے نارمل قانون کو ختم  کیا جاتاہے۔ اور ایک مصنوئی جین کو داخل کیا جاتا ہے اور اس سے بہت بڑی لیول پہ تباھی پہل سکتی ہے۔