کیا اونچی اڑان والے ڈرونز مستقبل میں گھروں کو بجلی دے پائیں گے؟

Technology
Makani drone for renewable energy

جیسا کہ رنیوئیبل توانائی کو مختلف طریقوں سے حاصل کیا جاتا ہے جس میں ونڈ ٹربائیں ، سولر پلیٹس، ٹائیڈل پاور جنریٹر، بایو فیول وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی ڈرون کی مدد سے رنیوئیبل توانائی کو حاصل کیا جائے گا۔

کافی بہت بڑی کمپنیوں کا ماننا ہے کہ بڑے بڑے کائیٹس یعنی پتنگ اور ڈرون کی مدد سے بہت اوچائی والی ہوائوں سے ونڈ انرجی کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا کی کل بجلی کا تقریبا چار فیصد حصہ ہوا یعنی ونڈ سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ناقدین اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہوا ھمیشہ سے نہیں چلتی اس کی وجہ سے ونڈ ٹربائیں سے ھمیشہ بجلی حاصل کرنا ناممکن ہے. جب کہ زمیں سے 500 میٹر کی اونچائی پہ ھوائیں بہت تیز چلتی ہیں اور بغیرکسی روک ٹوک کے چلتی رہتی ہیں اور وہاں سے بہت زیادہ بجلی کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

کیلیفورنیا کے لارنس لورمور نیشنل لیبارٹری کے 2012 کے ایک مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ زیادہ اونچائی والی ھوائیں گلوبل انرجی کی ضروریات سے سئو گنا زیادہ انرجی فراھم کر سکتی ہے۔
ویسے بھی اس وقت ونڈ ٹربائینس کی پرفارمنس بڑھانے کے لیے بہت اونچا لگایا جا رہا ہے لیکن یہ ٹاورز بھی بہت مھنگے پڑ رہے ہیں۔

ماکانی جو گوگل کی پیرینٹ کمپنی الفابیٹ کا حصا ہے جو اونچائی والی ہوائوں (High-altitude wind) کے اوپر کام کررہی ہے۔

اس پروجیکٹ میں ایک بڑے پتنگ یعنی کائیٹ نما پروٹوٹائیپ کو اسپیس میں چھوڑا گیا ہے جس کو ایک رسی یا وائر سے گرائونڈ کے گرڈ سے ملایا گیا ہے ۔ اور جب کہ اس کائیٹ میں سینسر اور جی پی ایس بھی لگایا گیا ہے تاکہ کائیٹ کو صحیح طرف میں چلانے کے لیے ہدایت دی جائے۔

جیسا کہ اس پتنگ کے اندر ونگس اور پکے لگائے گئے ہیں جو ہوا کے لگنے سے چلتے ہیں اور پھرونڈ انرجی کو ایک وائر کے مدد سے زمیں والی گرڈ تک پھنچایا جاتا ہے۔

اس ڈرون کو اڑانے کے لیے بیٹری سے پاور دیا جاتا ہے لیکن جب یہ ڈرون ایک بار آسمان میں اڑان بھر لیتا ہے تو خود بہ خود چارج ہوتا رہتا ہے اور پھر نیچے اترنے اور اڑان بھرنے کےلیے کسی بھی قسم کی ایندھن کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔

ماکانی نے اس وقت اپنی پہلے پروٹوٹائیٹ کی ٹیسٹنگ شروع کردی ہے جس کو 600 کلو واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جو 300 گھروں کوبجلی فراھم کرسکتا ہے۔