اب کیسے سستی بیٹریاں بنانا ممکن ہو گیا؟

Technology
new grid batteries for renewable energy

بارکلی : آپ رنیویبل انرجی کو کس طرح زخیرہ کرتے ہیں تاکہ ضرورت ہونے پر استعمال میں لاسکیں ، یہاں تک کہ جب سورج نہیں چمک رہا ہو یا ہوا نہیں چل رہی ہو تب بھی رنیویبل انرجی کو استعمال لایا جا سکے۔

جب کہ عام گھروں میں تو ہم لیتھیم آئن بیٹریوں سے سولر انرجی کو اسٹور کر سکتے ہیں لیکن بڑی بڑی گرڈ اسٹیشن میں لیتھیم بیٹریز کا استعمال بہت مہنگا پڑتا ہے بلکہ کچھ ٹائیم کے بعد ان بیٹریوں کو رپلیس بھی کرنا پڑتا ہے جو ایک گھاٹے والا سودا ہے۔

لیکن اب آمریکی محکمہ برائے توانائی کی لارنس بارکلی نیشنل لیبارٹری کے محققین نے الیکٹریکل گرڈ کے لیے بڑی بیٹریاں بنانے کا دعوا کیا ہے جو بجلی کو لکیوڈ الیکٹرولائٹ کے ٹینکوں میں زخیرہ کرتی ہیں جس کو فلو بیٹریز(Flow batteries) کہا جاتا ہے۔ ماھرین کا کہنا ہےکہ بیٹری کی یہ میمبرین ٹیکنالاجی اس مسئلے کو حل نکالنے میں خاطر خواہ مددگار ثابت ہوگی۔

بنانے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس بیٹری میں استعمال ہونے والا میمبرین بہت ہی سستا ہے جو پالیمر کی ایک کلاس ہےجس کو اکواپیمز (AquaPIMs) کہا جاتا ہے۔ پولیمر کی یہ کلاس دیرپا اور کم لاگت والی گرڈ بیٹریاں آسانی سے دستیاب مادوں جیسے زنک ، آئرن اور پانی کی بنیاد پر ممکن بناتی ہے۔