سمارٹ فون آلودہ پانی کی تشخیص کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

Technology

لندن : یونیورسٹی آف اڈنبرگ برطانیا کے محققین نے ایک ایسا بایوسینسر تیا ر کیا ہےجوسمارٹ فون سے منسلک ہے جو آرسنک کی لیول معلوم کرنے کے لیے بیکٹریا کا استعمال کرتا ہے، یہ ڈوائیس گراف بار کی طرح ایک پیٹرن بناتا ہے جو پانی کی آلودگی کی سطح کو ظاھر کرتی ہے، ماھریں کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی کو دیکھنے کے لیے سستےاور آسان حل فراھم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

محدود وسائل والے ممالک میں آلودہ پانی کی جانچ کرنے کے لیے قابل لوگوں اور صحت کی سہولیات کی کمی پائی جاتی ہے، محققین کا کہنا ہے کہ یہ نیا ٹول جلد ہی موجودہ ٹیسٹ والے سسٹم کی جگہ اپنالے گا جس کو استعمال کرنا بھی کافی مشکل ہوتا ہے اور لیبارٹری اسپیشلسٹ کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے علاوہ پرانی ٹیکنالاجی والے سسٹم زھریلے کیمیکلس بھی پیدا کرتے ہیں۔

جیسا کہ پانی کی آلودگی ایک عالمی مسئلا بنتا جا رہا ہے یونیسیف کے رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 140 ملین سے زائد افراد آلودہ پانی کو استعمال کررہے ہیں۔

محققین نے بنگلادیش میں متاثرہ کنووں سے پانی کے نمونے اس آرسنک سینسر سے ٹیسٹ کیے اور 100 فیصد صحیح رزلٹ نکل آیا۔ یاد رہے کہ بنگلادیش میں اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ پانی موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بنگلادیش میں دہاتوں میں رہنے والے 20 ملین غریب لوگ آلودہ پانی کو استعمال کر رہے ہیں۔

ماھرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصا اس طرح کا آرسینک والا پانی پینے سے انسان کی جلد خراب ہوجاتی ہے اور اکثر لوگوں میں کینسر پائی جاتی ہے ایسے علائقوں میں اموات کا 20 فیصد اس طرح کا آلودہ پانی پینے سے ہوتا ہے۔

محققین نے  یہ بایوسینسر بنانے کے لیے بیکٹریا  ایشرکیا (Escherichia Coli)  کی جینیٹک کوڈنگ کو تبدیل کرکے اور ایک نئے جینیاتی جزو (genetic component)  کو شامل کیا  ہے جو آرسنک کا سراغ لگاتے ہی بڑہ (amplify) ہو جاتا ہے۔ محققین کا کہناہے کہ دیگر ماحولیاتی زہریلے مادوں کا پتا لگانے، بیماریوں کی تشخیص،  اور زمینی مائینز کا پتا لگانے کے لیے اس ایپروچ کو استعمال کیا جا سکتا ہے