کیا سندر پچائی کو سلیکان ویلی میں سب سے کٹھن کام کرنا پڑے گا؟

Technology
Alphabet’s new CEO

منگل کے روز گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کے کوفائونڈر لاری پیج اور سرگی برن نے سی ای او اور صدر کے عہدرے استعفی دے دیا ہے۔  اور اس کی جگہ 47 سالہ سندر پچائی گوگل اور الفابیٹ دونوں کے سی ای او بن گئے ہیں۔
سندر پچائی نے 2004 میں گوگل میں شمولیت اختیار کی اور گوگل کی مقبول مصنوعات جی میل، کروم براؤزر اور اینڈرائڈ سمیت کچھ نئے کاموں کی ذمیواری اٹھانا شروع کردی۔

جب گوگل کے فائونڈرز لاری پیج اور سرگی برن نے سن 2015 میں الفابیٹ ہولڈنگ کمپنی تشکیل دی تھی۔ سندر پچائی کو گوگل چلانے کےلئے منتخب کیا گیا تھا۔  جس کے کاروبار میں یوٹیوب، گوگل میپ، جی میل اور اینڈروئڈ بھی شامل ہے جو کمپنی کا سارا روینیو بناتے ہیں۔
اکنومک ٹائیمز کے مطابق  اس کمپنی کے بانیوں نے اپنے مقصد سلیف ڈرائیونگ کاروں اور دوسرے ٹیکنالاجی کے پروجیکٹ سے پیچھا چہوڑدیا ہے۔  منگل کے روز اپنے اہم عہدوں سے دستبرداری اختیار کرلی ہے ۔ اور انہوں نے پچائی کو مکمل ایگزیکٹو کنٹرول سونپ دیا ہے حالانکہ وہ بورڈ کا حصہ رہیں گے اور کمپنی پر ووٹنگ کا کنٹرول بھی رکھتے ہیں۔

الفابیٹ کے نئے سی ای او کےلئے چیلینجز

ماہرین کے مطابق سندر پچائی کےلئے خاص طور پر آنے والے وقت میں گوگل کے بنیادی وجود کو قائم رکھنا چیلیج بنتا جا رہا ہے۔  جس میں پوری دنیا میں ریگیولیٹری جانچ پڑتال، ٹیکس کے تقاضوں اور مارکیٹ میں چین جیسے حریف کا آنا ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔

گوگل کو اپنے غلبے کو برقرار رکھنے کےلئے بہت زیادہ چیلینجز کا سامنا کرنا ہوگا۔  خاص طور پر چائنا جیسے حریف مارکیٹ میں زیادہ غلبہ جمانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔  ٹک ٹاک جو ایک مشہور مختصر ویڈیو پلیٹ فارم ہے جو یوٹیوب کے لئے پہلے ہی ایک مضبوط مقابلہ کے طور پر ابھرا ہے ۔اور اس کے علاوہ چائینیز کمپنی بائٹ ڈانس نے بھی ایک سمارٹ فون اور میوزک اسٹیریمنگ پروڈکٹ بھی لانچ کیا ہے۔ جس کا براہ راست مقابلہ گوگل کی پروڈکٹس سے ہے۔

کچھ سال پہلے آن لائن ایڈورٹائزنگ مارکیٹ گوگل اور فیس بک کے مابین قریب قریب ایک دوھٹھی کی حیثیت سے کام کرتی تھی ۔ لیکن اب ٹک ٹوک کے داخلے سے ان دونوں کی اجارہ داری ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔

بہت سارے ٹیکنالاجی کے تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ الفابیٹ کے دن باقی رہ گئے ہیں۔ اب پچائی کےلئے سب سے بڑا چیلینج الفابیٹ کے ان ناکام پروجیکٹس کو سنبھالنا ہے ۔ جن میں سے کوئی بھی پروجیکٹ ایک مکمل بزنس میں تبدیل نہیں ہوسکی ہے۔

گوگل ابھی بھی الفابیٹ کی کمانے والی نقد گائے ہے جو منافع بخش ڈجیٹل اشتہاروں کے کاروبارکی بدولت اپنی آمدنی کو موثر انداز میں پیدا کررہی ہے۔

پچائی کا کام اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان الفابیٹ کے باقی منافعہ نادینے والی کمپنیوں کا کیا کرنا ہے ۔ کیا وہ دوبارہ گوگل کا حصہ بنیں گے یا الفابیٹ ان میں سرمایہ کاری کو کم کردے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
اس کے علاوہ الفابیٹ کے سربراہ ہونے کے ناتے سندر پچائی کو متعدد چیلینجوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس میں عدم اعتماد سے متعلق تحقیقات سے لےکر داخلی ملازموں کی بغاوت کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔