اب کیمرا مشکوک افراد کا پتا لگا سکتی ہے۔

Technology

لنڈن : برطانیا کے سائنسدان  ایک ایسی کیمرہ کو  بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں  جو ہزاروں لوگوں کی بھیڑ میں  مشتبہ شخص کا پتا لگا سکتی ہے۔ فیشئل رکیگنیشن ٹیکنالاجی(facial recognition() technology)  تو  ایک دھائی سے چل رہی ہے لیکن آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی زیادہ  استمعال  سے کچھ عرصے میں  اس شعبے نے بہت ترقی کی ہے ۔ اب اس کا استعمال غیر ملکی سرحدوں ،  انلاک سمارٹ فونس،مجرمون کو پکڑنے اور بینکاری لین دین میں بھی ہو رہا ہے  ۔ لیکن کچھ ٹیکنالاجی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالاجی انسان کے جذبوں  کا بھی پتا لگا سکتی ہے۔ اب جس طرح آئی فون ایکس کو   چہرے کے تاثرات کی مدد سے  کھولا جاتا ہے اور اسی طرح بڑی بڑی سپرمارکیٹ بھی اس ٹیکنالاجی کا استعمال کرکے کسٹمرز کی عمر،جنس اور موڈ کو دیکھ کے ٹارگیٹیڈ پراڈکٹس کو لے آنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اکثر جذبات جیسے  غصا ، شک کا ہونا بولنے والے زبان سے مختلف ہوتے ہیں۔

برطانیا کے ایک فرم WeSee نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مل کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد سے انٹرویوز کرواکے سافٹویئر کو شروعاتی طور پر ٹیسٹ کیا ہے جس کی درستگی 92 فیصد بتائی گئی ہے کمپنی کے  حکام کا کہنا ہے کہ ہم  کم معیاری ویڈیو اور فوٹو سے بھی  مشتبہ شخص کا پتا لگا سکتے ہیں مزید کہنا ہے کہ فیوچر میں اس ٹیکنالاجی کا استعمال  کرتے ہوئے شہر کی الگ الگ جگہوں پر بہت سارے کیمرے نصب کیے جائیں گے جو مشتبہ شخص کا پتا لگا سکیں گے اور حکام کو  ممکنہ دہشت گردی کے خطرے سے آگاہ کریں گی۔

اس  ٹیکنالاجی کا استعمال کرکےبڑی بڑی تقریبات جیسے فٹبال میچز اور  سیاسی ریلیوں پہ نظر رکھی جا سکتی ہے