حکومتی اداروں نے واٹس ایپ پہ آنے والے پیگاس نامی وائرس سے متعلق انتباہ کردیا۔

Social Media
Whatsapp malware

وزارت انفارمیشن ٹیکنالاجی نے متعلقہ حکومتی ادراروں کو ایک کلاسیفائیڈ خط بھیج دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اہم معلومات کے بھیجنے کےلیے واٹس ایپ کے استعمال سے گریز کیا جائے کیوں کہ واٹس ایپ کے اوپر ایک اسرائیلی اسپائی ویئر اسکرین ایکٹیوٹیز کو رکارڈ کرسکتا ہے جس سے حساس معلومات اور کسی بھی اور قسم کی اہم پیش رفت لیک ہو سکتی ہے۔

خط میں متنبہ کیا گیا ہے کہ غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسیاں موبائل فون کے ذریعےبھیجے گئے اہم ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔
پیگاسس نامی اس اسپائی ویئر نے واٹس ایپ کی سیکیورٹی کو داغدار کردیا ہے اور واٹس ایپ نے بھی اس ڈجیٹل اٹیک سے چہٹکارا پانے کےلئے اسرائیلی تخلیق کار کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کردی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستانی موبائیل صارفین دو گنا خطرے میں پڑسکتے ہیں کیوں کہ ہندستانی حکومت اضافی طور پر موبائیل سے متعلق معلومات لینے کےلئے اسپائی ویئر کا استعمال کررہی ہے۔

اس وائرس کی لپیٹ میں آنے والوں میں پاکستان سمیت 20 ممالک کے 1400 سے زائد اعلی سرکاری اور فوجی حکام بھی شامل ہیں۔ یہ اسپائی ویئر کسی بھی ٹارگیٹ واٹس ایپ نمبر پہ مس کال کے ذریعے اٹیک کرسکتا ہے۔

واٹس ایپ سروس نے کہا ہے کہ اس میلویئر کے ذریعے سے ہونی والی کسی بھی طرح کی نجاست کو محدود کرنے کےلئے سرکاری حکام اور انٹیلیجنس اداروں کو واٹس ایپ سے ڈیٹا شیئر نہیں کرنا چاہئے۔

پیگاسس اسپائی ویئر ٹیکسٹ میسیجز کو پڑہنے ، کال کو ٹریک کرنے، پاس ورڈ کو دیکھنے، فون کی لوکیشن کو ٹریک کرنے، ٹارگیٹ ڈوائس کے مائکروفون اور ویڈیو کیمرا تک رسائی حاصل کرنے اور ایپس سے معلومات اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔