ہندستان میں ٹک ٹوک پر پابندی کی وجہ سے چائینیز کمپنی کو 6 بلین ڈالر سے زیادہ نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔

Social Media
TikTok banned in India

 بھارت نے چین کے ساتھ بڑہتے ہوئے ٹینشن کے وجہ سے پیر کے روز ٹک ٹوک کے علاوہ 58 دیگر چینی ایپلیکیشنز پر بھی پابندی عائد کردی ہے جس میں یوسی براؤزر بھی شامل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں ہفتے بھارت کی جانب سے مقبول ترین ویڈیو ایپ ٹک ٹاک سمیت ایک ہی کمپنی کے تین ایپس پر پابندی عائد کرنے کے بعد چائینیز ٹیک جیانٹ بائٹ ڈانس لمیٹڈ کو 6 بلین ڈالر سے زیادہ  نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔

بائٹ ڈانس لمیٹڈ کے قریبی ذرائع سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق پچھلے کچھ سالوں میں کمپنی نے ہندستانی مارکیٹ میں 1 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری بھی  کی ہے۔

یاد رہے یہ پابندی مشرقی لداخ میں چینی فوج کے ساتھ لائن آف ایکچئول کنٹرول پر جھڑپوں کے تناظر میں عائد کی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ پابندی ٹک ٹوک کی بڑہتی ہوئی توسیع پہ بہت بڑا دہچکا ہے۔ جس کو چین کے بعد ہندستان میں بہت مقبولیت ملی تھی۔ چین کے بعد ہندستان میں سب سے زیادہ ٹک ٹوک یوزر پائے جاتے ہیں۔

روان سال کے پہلے کوارٹر میں ٹک ٹاک 611 ملین بار ہندستان میں ڈائون لوڈ کیا گیا تھا۔ جو دنیا بھر کی ڈائون لوڈنگ کا 30 فیصد بنتا ہے۔