اب مصنوئی ذھانت ابتدائی موت کی پیشنگوئی کرے گی۔

Artificial Intelligence

 برطانیا : یونیورسٹی آف نوٹنگھم برطانیا کے ماھریں نے ایک ایسا آرٹیفیشئل انٹیلیجنس بیسڈ سسٹم بنایا ہے جو مشین لرنگ کا استعمال کرتے ہوئے کسی خطرناک بیماری میں گھری لوگوں کی موت کے ٹائیم کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ ماھریں کا کہنا ہے کہ یہ سسٹم مستقبل میں سب سے زیادہ بیمار لوگوں کی صحت کی دیکھ بال کو بھتر بنا سکتا ہے۔

ھیلتھ کیئر ڈیٹا ماھرین اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے تقریبا  پانچ لاکھ لوگوں کی ڈیٹا کو استعمال کیا ہے جن کی عمریں  40 اور 70 سال کے بیچ میں ہے۔

اس کام کے لیڈ محقق پروفیسر آف ڈیٹا سائنس اور  (Epidemiology) ایپڈیمیولوجی  ڈاکٹر اسٹیفن وینگ  کا کہنا ہے کہ ھیلتھ کیئر ایک سنگین مسئلا بنتا جا رہا ھے بیماریوں کی تشخیص کی درستگی کو بھتر بنانے کے لیے کئے سالوں سے کام جاری ہے اس سے پہلے ایسی کافی ایپلیکیشن بنائی گئی ہے جو ایک خاص بیماری اور ایک علائقے کو فوکس کرتے ہیں۔ لیکن مختلف بیماریان ہونے کے باعث موت کی پیشنگوئی کرنا انتھائی پیچیدہ ھے خاص طور پہ ماحولیاتی  اور  انفرادی عوامل مسائل کو کافی پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔  اور ھم نے اس  میں ایک منفرد سوچ کو فروغ دینے کے لیے ایک الگ قسم کا سسٹم بنایا ہے جو رسک پریڈیکشن موڈل (Risk prediction models) بناتا ہے جو مشین لرنگ کا استعمال کرتے ہیں جس میں ھر شخص کی ڈیموگرافک، بایومیٹرک، کلینیکل، غضائی  استعمال جس میں فروٹ، سبزیاں اور گوشت کو بھی دیکھا جاتا ہے۔

اورجب اس سسٹم کی رزلٹس کو National statistics death records  اور UK cancer registry  کی ٖڈیٹا سے موزانہ کیا گیا اور 90 فیصد صحیح  رزلٹ پائے گئے.