گلوبل پوزیشننگ سسٹم پر روزانہ کتنا خرچہ آتا ہے؟

Computing
Operating Cost of Global positioning system

گلوبل پوزیشننگ سسٹم جس کو بنانے میں 12 بلین ڈالر کی لاگت آئی ہے جب کہ آپریٹنگ لاگت میں صرف ایک دن میں 2 ملین ڈالر خرچ ہوتے ہیں اور یہ رقم آمریکی ٹیکس محصول سے حاصل ہوتی ہے۔

اس سسٹم میں کل 28 سیٹلائیٹس ہیں ہر ایک سیٹلائیٹ اپنے اپنے مدار میں زمین سے اوپر 11000 سمندری میل کے فاصلے پر موجود ہے۔

گلوبل پوزیشننگ سسٹم (GPS)، اصل میں نیواسٹار جی پی ایس(NAVSTAR GPS) ایک مصنوئی سیاروں پر مبنی ریڈیونیویگیشن سسٹم ہے جوآمریکی حکومت کی ملکیت ہے اور آمریکی اسپیس فورس اس پورے سسٹم کو چلاتی ہے۔

اس کو عالمی سطح پر نیویگیشن سیٹلائیٹ سسٹم (GNSS) بھی کہا جاتا ہے جو زمین پر موجود جی پی ایس کوآرڈینیٹس وصول کرنے والے کو کہیں بھی جیولوکیشن اور وقت کی معلومات فراہم کرتا ہے۔

جی پی ایس پروجیکٹ کا آغاز آمریکی محکمہ دفاع نے 1973 میں کیا تھا، اس کا پہلا پروٹوٹائپ خلائی جہاز 1978 میں لانچ کیا گیا تھا اور 1993 میں 24 سیٹلائیٹس کو مکمل طور پر عمل میں لایا گیا تھا۔

اصل میں پہلے یہ سسٹم صرف آمریکی فوج کے استعمال تک محدود تھا، 1980 کے عشرے میں صدر رونالڈ ریگن کے ایگزیکیوٹو آرڈر سے شہریوں کو استعمال کرنے کی اجازت مل گئی تھی۔

جی پی ایس سروس آمریکی حکومت کی ملکیت ہے جو سسٹم کو کسی بھی وقت کسی خاص علائقے کےلئے بند کرسکتی ہے جیسا کہ 1999 میں کارگل جنگ کے دوران ہندستانی فوج کے ساتھ ہوا تھا، اس نقطہ نظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے متعدد ممالک اپنے علائقائی سیٹلائیٹ نیویگیشن کے قیام کو عمل میں لارہے ہیں۔

1990 کی دہائی کے دوران آمریکی حکومت نے “مخصوص دستیابی” (Selective Availability) کے نام سے ایک پروگرام میں جی پی ایس کے معیار کو کم کردیا تھا جس کو پہر مئی 2000 میں صدر بل کلنٹن کی طرف سے ختم کردیا گیا تھا۔

جب 2000 میں مخصوص دستیابی کو ختم کردیا گیا تو جی پی ایس میں تقریبا پانچ میٹر کی درستگی تھی۔ درستگی میں اضافہ کا تازہ ترین مرحلہ L5 بینڈ کا استعمال کرتا ہے جس کو 2018 میں پوری طرح سے تعینات کیا گیا ہے جو 30 سینٹی میٹر یا 11 انچ کے اندر اندر لوکیشن کا اشارہ کرتا ہے۔

روسی گلوبل نیویگیشن سیٹلائیٹ سسٹم (GLONASS) کو جی پی ایس کے ساتھ کام کرنے کےلئے تیار کیا گیا تھا، لیکن وہ سن 2000 کی دہائی تک دنیا کی نامکمل کوریج کا شکار رہا۔

گلوناس(GLONASS) کو جی پی ایس(GPS) ڈوائیسز میں شامل کیا جا سکتا ہے، جس سے زیادہ سیٹلائیٹس دستیاب ہونگے جس کی مدد سے مطلوبہ لوکیشن کو زیادہ درست طریقے سے طئی کیا جا سکتا ہے، جو دو میٹرتک کے فاصلہ کی درستگی دیتا ہے۔

اس کے علاوہ چین کے بیدو نیویگیشن سیٹلائیٹ سسٹم نے بھی 2018 میں گلوبل سروسز کا آغاز کردیا ہے جس کی 2020 میں مکمل تعیناتی کی جائی گی۔

اس کے علاوہ یورپی یونین گیلیلیو پوزیشننگ سسٹم ، ہندستان کا ناوک(NAVIC) اور جپان کا کوسی زینتھ سیٹلائیٹ سسٹم(QZSS) بھی موجود ہیں جو آنے والے کچھ سالوں میں اپنی سروسز دینا شروع کردیں گے۔