کیا امیزون کے جنگلات میں لگنی والی آگ دنیا کی 20 فیصد آبادی کو نگل لےگی؟

Environment

براسلیا : دھرتی کی دل سمجھے جانے والے امیزون کے جنگلات اس وقت شدید آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ اس آگ کو بجانے کےلیے آمریکن ایئرفورس کے آگ بجانے والے گلوبل سپرٹینکر ہوائی جہاز کی مدد لی جارہی ہے، جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ایئر ٹینکر ہے جو ایک ہی ٹرپ میں اونیس ھزار گیلن مٹیریل اٹھا سکتا ہے، اس کے علاوہ برازیل کے ملٹری ایئرکرافٹس اور چالیس ھزار آرمی کو آگ بجانے کے مشن میں لگایا گیا ہے۔

امیزون بولیویا سمیت آٹھ ممالک پر محیط ہے، حالانکہ جنگل کی اکثریت برازیل میں ہے۔ اکثر طور پر ان جنگلات کو زمین کے پھیپھڑے بھی کہا جاتا ہے، امیزون کا جنگل دنیا کی تقریبا 20 فیصد آکسیجن تیار کرتا ہے۔ آگ لگنے سے اٹھنے والا دونھا امیزون کے پورے خطے اور اس سے باہر بھی پہل چکا ہے۔

(Copernicus Atmosphere Monitoring Service (Cams) کیمس کے مطابق دونھا اٹلانٹک کے ساحل کی طرف بڑہ رہا ہے اور بہت بڑی مقدار میں کاربان ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہو رہا ہے جو اس سال کا اب تک کا 228 میگا ٹنس کے برابر ہے۔ ماحول میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کاربان مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈس اور نان میتھین نامیاتی مادوں کا اخراج بھی بڑہ رہا ہے جو بہت ہی ذھریلے مادے ہیں۔

اس دونھے کے بادلوں کو خلا سے بھی دیکھا جا سکتا ہے، یورپی یونین ارتھ آبزرویشن پروگرام اور ناسا گذشتہ دو ہفتوں سے اس آگ کو مانیٹر کررہے ہیں اور ان کی تصاویر بھی شییر کرتے رہتے ہیں۔

امیزون بیسن جانوروں اور پودوں کے 30 لاکھ پرجاتیوں اور 10 لاکھ دیسی باشندوں کا گھر ہے۔ اگر اس آگ کو قابو نہیں پایا گیا تویہ ساری پرجاتیا اپنا وجود کہو بیٹھیں گی، ناصرف یہ بلکہ امیزون کے جنگلات گلوبل وارمنگ کو منظم کرنے کےلیے بہت ہی ضروری ہے جو ہر سال لاکھوں ٹن کاربان کے اخراج کو جذب کرتے ہیں۔

آگ لگنے کا پتا ابھی تک نہیں لگ سکا ہے، اگرچہ ناسا کے مطابق امیزون بارشوں کے موسم میں عام طور پر گیلا اور مرطوب ہوتا ہے جب کہ جولائی اور آگست میں خشک موسم ہوتا ہے اس خشک سالی کے باعث ان جنگلات میں آگ لگجاتی ہے۔

جب کہ ایک لوکل این جی اوز امیزون واچ  کے مطابق کاشتکاری یا کھیتی باڑی کےلیے اکثر زمین کو صاف کرنے کے لیے آگ کا استعمال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے آگ کے زیادہ تر واقعات ہوتے ہیں اگرچہ ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے کہ آگ کس وجہ سے لگی ہے۔