کانگو وائرس کیسے پہلتا ہے؟

Health
congo virus

کانگو وائرس یا کریمین کانگو ہیموراجک بخار (Crimean-Congo Haemorrhagic Fever CCHF) ایک چیچڑ کے ڈک مارنے سے پیدا ہونے والی وائرل بیماری ہے جو جنگلی اور گھریلو مویشیوں کو متاثر کرسکتا ہے، جب کہ انسان میں متاثرہ جانورپر رہنے والے چیچڑ کے کاٹنے، جانور کے خون لگنے اور گوشت کھانے سے ہو سکتا ہے۔

یہ وائرس متاثرہ شخص کے اعضاء ، خون اور دوسری کسی بھی قسم کی رطوبت کی منتقلی سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتا ہے۔ کانگو وائرس زیادہ درجہ حرارت میں زندہ نہیں رہ سکتا جب کہ اچھی طرح سے پکا ہوا گوشت وائرس کی منتقلی میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔

علامات :
اگرکسی شخص کو متاثرہ چیچڑ نے کاٹا ہے یا کسی متاثرہ شخص یا جانور کی جسمانی رطوبت سے قریبی رابطہ ہوا ہے تو ابتدائی طور پر بخار آجاتا ہے تو فوری طور پر کسی اچھے ڈاکٹر سے رابطہ کریں مزید اس وائرس کی علامات ایک سے تین دن میں ظاہر ہو جاتی ہیں ۔

ان علامات میں بخار کا زیادہ رہنا، پیٹ میں درد، ڈائیریا، پٹھوں میں درد، سر درد، الٹی کا ہونا شامل ہیں، جب کہ دو دن کے بعد کچھ اضافی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں جس میں۔۔۔
ضرور سے زیادہ نیند کا آنا، ذہنی دباؤ، دائیں جانب پیٹ میں درد کا ہونا، جلد پر دھبے، یرقان، ناک میں خون کا آنا اور بے قابو خون کا بہنا شامل ہیں۔
کانگو وائرس سے ہونے والی اموات کی شرح 40 فیصد ہے اگر کسی شخص کو اوپر والے علامات ہیں تو فوری طور اس کا میڈیکل چیک اپ کروایا جائے اگر اس کی تشخیص میں دیر ہوئے تو قابو پانا مشکل ہے اور یہ اعضاء کی ناکامی اور حتمی موت کا سبب بن سکتا ہے لہذا ابتدائی تشخیص بہت ضروری ہے۔
اس کی ابتدائی تشخیص کے بعد رباویرن(Ribavirin) اھمیت کی حامل ہے ویسے اس سے رکوری تھوڑی آھستہ آھستہ ہوتی ہے۔

آپ کیا احتیاتی تدابیر اختیار کرسکتے ہیں؟
ابھی تک اس وائرس سے بچنے کےلیے کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے لیکن آگاھی پیدا کرنا ہم سب پر فرض ہے۔

• جانورں کے پاس جانے پر اپنے آپ کو مکمل طور پر کپڑوں سے ڈھک لیں اور ہاتھوں پر دستانوں کا استعمال کریں۔

• چیچڑوں کو ختم کرنے کےلیے جانوروں پر اسپرے کا استعمال کریں اور پہنے ہوئے لباس پر بھی حفاظتی اسپرے کریں۔

•   ان جگھوں پر جانے سے پرہیز کریں جہاں پر زیادہ چیچڑ موجود ہیں۔

•   وائرس سے متاثرہ مریضوں کو الگ رکھیں، کم سے کم رابطہ کرنےکی کوشش کریں اورمریض کو چھونے کے بعد اپنے جسم ، منھن اور ہاتھوں کو اچھی طرح سے دہو لیں دستانے اور ماسک پہنیں۔

•   شکاری لوگ، زراعت سے وابسطہ لوگ جو جانوروں کو ذبح کرکے کچے گوشت کو سنبھالنے کا کام کرتے ہیں وہ بھی اس وائرس کا شکار بن سکتے ہیں۔

•   متاثرہ جانور کے گوشت کو اچھی طرح سے پکائیں اگر ممکن ہو تو اس سے بچیں یہ پرندوں کی نسبت بڑے جانورں میں زیادہ عام ہے ۔ لہذا مرغی اور مچھلی اس وائرس سے محفوظ ہوتی ہے۔

•   صفائی ستھرائی ضروری ہے یہ وائرس متاثرہ جانوروں اور مریضوں سے جاری ہونے والی تمام رطوبتوں میں موجود ہوتا ہے۔

ستمبر 2010 میں خیبر پختونخوا صوبے میں اس وائرس کے پہلنے کی خبر ملی تھی خراب تشخیص اور رکارڈ نہ رکھنے کی وجہ سے وبا غیر یقینی طور پر پہل گئی تھی، اطلاعات کے مطابق 100 سے زائد مریضوں کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن پھر جلد ہی کنٹرول کیا گیا۔