ایچ آئی وی کیسے ہوتی ہے اور اس سے بچنا کیسے ممکن ہے؟

Health
HIV precaution and treatments

انسان کے مدافعتی نظام کو کمزور کرنے والا وائرس (Human Immunodeficiency Virus HIV) جو انسان کے مدافعتی نظام کو نشانہ بناتا ہے اور بیماریوں سے لڑنے والے دفائی نظام کو اتنا کمزور کردیتا ہے کہ مدافعتی نظام کےلیے انفیکشن اور کینسر کے کچھ اقسام سے لڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جیسے جیسے یہ وائرس مدافعتی خلیوں کے کام میں رکاوٹ بنتا ہے تو متاثرہ افراد آہستہ آہستہ مدافعتی نظام کو کہو دیتا ہے ۔مدافعتی نظام کو CD4 خلیوں کی گنتی سے ناتا جاتا ہے۔

ایچ آئی وی انفیکشن کا دوسرا مرحلہ اکوائرڈ امیونوڈفیسینسی سنڈروم (AIDs Acquired Immunodeficiency Syndrome) ہے جو ایچ آئی وی کا علاج نہ ہونے کی صورت میں 2 سے 15 سال کا ٹائیم لیتی ہے جو کینسر ، شدید انفیکشن اور دیگر خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔

نشانیاں اور علامات :

انفیکشن کے مرحلے کے لحاظ سے ایچ آئی وی کی علامات مختلف ہوتی ہیں اگرچہ متاثرہ شخص کو ابتدائی چند مہینوں میں ایچ آئی وی کا پہلاؤ زیادہ ہوتا ہے لیکن بہت سے افراد بعد کے مراحل تک ان کی اصلیت سے لاعلم رہتے ہیں۔

ابتدائی انفیکشن کے بعد چند ہفتوں میں لوگوں کو بخار، سردرد، نزلہ زکام اور گلے کی سوزش جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ چونکہ انفیکشن بتدریج مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے اس وجہ سے اس کے علاوہ اور بھی دیگر علامات ظاہر ہوسکتی ہیں جیسے سوجن، وزن میں کمی ، بخار اور کھانسی بھی ہوسکتی ہے۔
علاج کے نہ ہونے سے ٹی بی، شدید بیکٹیریل انفیکشن اور کینسر جیسے مرض بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

ترسیل کا عمل (منتقلی) :

•    ایچ آئی وی کا وائرس متاثرہ افراد کے خون، مان کے دودہ، منی وغیرہ کی منتقلی سے پہل سکتا ہے۔
•    حمل کے دوران بھی ماں سے بچے میں ایچ آئی وی منتقل ہو سکتی ہے۔
•     عام طور پر روز مرہ کے رابطے جیسے چمہ دینے، گلے ملنے، ہاتھ ملانے اور ذاتی چیزوں جیسے پانی اور کھانا کھانے سے یہ وائرس منتقل نہیں ہوتا ہے۔

خطرے کے عوامل :

ایسے سلوک اور شرائط جن سے افراد کو ایچ آئی وی ہوسکتی ہے:

•    جنسی تعلقات اس وائرس کے پہلنے میں اھم وجہ بن سکتی ہے۔
•    جنسی تعلقات سے منتقل ہونے والے دوسرے انفیکیشن سیفلیس (Syphilis)، ہرپس (Herpes)، کلیمائڈیا (Chlamydia) سے بھی ایچ آئی وی کا وائرس پہل سکتا ہے۔
•    استعمال شدہ سرنجیں اور نیڈلس بھی یہ وائرس پہلانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
•   غیر محفوظ انجیکشن، خون کی منتقلی اور ٹشوز کی پیوندکاری بھی سبب بن سکتی ہے۔

تشخیص :

ایچ آئی وی کی تشخیص ایک دن کے اندر کی جا سکتی ہے ، اس سے جلدی علاج شروع کرنے میں مدد ملتی ہے۔ لوگ خود کو جانچنے کےلیے ایچ آئی وی کے خود بھی ٹیسٹ کروا سکتے ہیں تاہم بہت سارے ٹیسٹ مکمل تشخیص فراہم نہیں کرتے اس لیے کسی اچھی جگہ سے ٹیسٹ کروانی چاہیے تاکہ بیماری کا صحیح طریقے سے پتا چل سکے۔

روک تھام :

ایک عام انسان خطرے والے عوامل کو محدود کرکے ایچ آئی وی کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں ، ایچ آئی وی سے بچاؤ کےلیے کلیدی نقطہ نظر جو اکثر استعمال ہوتے ہیں ذیل میں درج ہیں۔
•   جنسی عمل کے دوران کنڈوم کا صحیح استعمال ایچ آئی وی اور ایس ٹی آئی (STIs) کے پھیلاؤ سے بچا سکتا ہے۔
•    کسی بھی خطرے والے عوامل سے دوچار تمام لوگوں کےلئے ایچ آئی وی اور ایس آئی ٹی کی ٹیسٹ کرانے کا سختی سے مشورہ دیا گیا ہے۔
•    ایچ آئی وی کے مریضوں میں ٹی بی (TB) سب سے عام بیماری ہے، پتا چلا اور علاج نہیں کرایا تو ٹی بی ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد میں اموات کا سب سے بڑا سبب ہے جو ایچ آئی وی سے وابستہ 3 اموات میں تقریبا 1 کا ذمیوار بنتی ہے۔
•     ٹی بی کا جلد پتا لگانے اور اس کے علاج سے کافی حد تک اموات سے بچا جا سکتا ہے۔

علاج :

یاد رہے کہ ایچ آئی وی کے وائرس کو مکمل طور پر ختم کرنا ناممکن ہے لیکن کچھ ادویات لینے سے اثرات کے شدت میں کمی کی جا سکتی ہے۔
ایچ آئی وی کو تین یا اس سے زیادہ ای آر وی (Antiretroviral ARV) ادویات پر مشتمل ای آر ٹی (ART) کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔ ای آر ٹی (ART) اس سے ہونے والے انفیکشن کا علاج نہیں کرتا ہے لیکن انسان کے جسم میں وائرل ریپلیکیشن کو دباتا ہے اور مدافعتی نظام کو انفیکشن سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور دوبارہ لڑنے کی قابلیت دیتا ہے۔

ایچ آئی وی صحت کا ایک عالمی مسئلہ ہے جس نے اب تک 32 ملین سے زیادہ افراد کی جانیں لیں ہیں، 2018 کے آخرتک میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد 37.9 ملین تھی عالمی ادارہ صحت کے مطابق (ARTs) کے صحیح استعمال سے 2000 کے بعد ایچ آئی وی کے متاثرہ لوگوں کی اموات میں کمی آئی ہے