دل کا دورہ پڑنے کے امکانات کو کیسے کم کریں؟

Health
reduce chance of heart attack

دل کی بیماریاں موجودہ دور میں وقت سے موت کی سب سے بڑی وجہ ہے اور پوری دنیا کےلیے خطرہ بن گیا ہے۔ اگر کسی کو موروثی طور پر دل کی بیماری ہے تو اس پر آپ کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ آپ کے لائف اسٹائل کا سب سے زیادہ اثر آپ کے دل کے دورے کے خطرے پر پڑسکتا ہے۔ سگریٹ نوشی چھوڑنے، صحتمند کھانا کھانے اور باقاعدگی سے ورزش کرکے دل کی بیماریوں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے سے دل کے دورے کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے ،نیچے دیئے گئے تین اہم پہلوئوں کو نظر میں رکھنے سے دل کی بیماریوں کو کافی حد تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

1- طرز زندگی میں تبدیلیان لانا:

• سب سے پہلے تمباکو نوشی چھوڑنے سے 36 فیصد دل کے دورے پڑنے کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے اگرچہ دل کا دورہ پڑنے کےلئے سگریٹ نوشی ایک اہم عنصر ہے۔

• اپنی غذا میں سبزیوں ، پھلوں پہ زور دیں اس کا زیادہ استعمال دل کے دورے کے خطرے کو کم کرنے میں اہم مددگار ثابت ہوتا ہے۔ پتی دار سبزیاں اور پہلوں کا استعمال ان فروزن کھانوں اور فاسٹ فوڈ سے زیادہ صحتمند ہے۔ مٹھائی اور شکر، سافٹ مشروبات اور لال گوشت سے پرہیز کریں ان کا استعمال بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں اضافہ کرتا ہے۔

• ھفتے میں کم سے کم 5 دن روزانہ 30 منٹ تک ورزش کرنا شروع کریں۔ کم سے کم ایک ھفے میں 150 منٹ تک ہلکہ واک کریں۔ ریگیولر ورزش نہ صرف دل کے دورے کے امکانات کو نمایا طور پر کم کرتی ہے بلکہ یہ آپ کو جسمانی طور پر مضبوط کرنے میں مدد کرتی ہے۔

• صحتمند وزن برقرار رکھنے کےلیے اپنی غذا کو اپنی سرگرمیوں سے ہم آہنگ رکھیں۔ یہاں تک کہ اگر آپ کا وزن زیادہ نہیں ہے تو آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آپ ایک دن میں اتنی ہی کیلوریز کنزیوم کررہے ہیں جتنی آپ کی برن ہو رہی ہیں۔

• زہنی تناؤ کو کم کرنے کےلیے ذہن کو فریش رکھیں۔ اگرچہ تناؤ زندگی کا ایک حصہ ہے لیکن آپ اس تناؤ کو کس طرح سنبھالتے ہیں اس سے دل کا دورہ پڑنے کے امکانات بڑہ سکتے ہیں۔ گہری سانس لینے کی مشقیں اور مراقبہ (Meditation) زیادہ اندرونی امن کو مستقل رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔

• ہر رات 7 سے 9 گھنٹے تک آرام کریں اگرچہ ہر فرد کی نیند کی ضروریات مختلف ہیں، اوسطا ایک بالغ کو ہر رات 7 سے 9 گھنٹے گھری نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیند پورا نہ کرنا دل پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور دل کے دورے پڑنے کے امکانات بڑہ سکتے ہیں۔

2- بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا:

• سال میں کم سے کم ایک بار اپنے بلڈ پریشرکی جانچ ضرور کروائیں اور بلڈ پریشر 120/80 ملی میٹر Hg ہونا چاہیے۔

• اپنی غذا میں نمک (سوڈیم) کا استعمال کم کریں نمک آپ کے بلڈ پریشر کو بڑہاتا ہے لہذا آپ جتنا نمک کھاتے ہیں آپ کا بلڈ پریشر اتنا ہی زیادہ ہوگا اگرچہ ایک عام انسان کو ایک دن میں 6 گرام سے زیادہ نمک نہیں کھانا چاہیے۔

• اگر بلڈ پریشر اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے تو کسی اچھے ڈاکٹر سے رابطہ کریں صرف غذا اور ورزش بھی کام نہیں کرتی آپ کی صحت کے حساب سے دوائی لینے سے بلڈ پریشر کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

3- کولیسٹرول کو کم کرنا:

• اپنی کولیسٹرول کی لیول کی جانچ کروائیں کیوں کہ ہائی کولیسٹرول کی کوئی علامات موجود نہیں ہیں لہذا آپ کے خون میں کولیسٹرول کی کل سطح کا تعین کرنے کےلیے ڈاکٹر کو آپ کے خون کی جانچ کرنے ہوگی۔

• تشخیص کریں کہ آپ کے کولیسٹرول کی لیول دل کے دورے کے خطرے کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔ کولیسٹرول کا مکمل ٹیسٹ ایچ ڈی ایل کولیسٹرول، ایل ڈی ایل کولیسٹرول اور ٹرائگلیسیرائڈس کی پیمارئش کرتا ہے ۔ ڈاکٹر ان تینوں کے نتائج کو آپ کے دوسرے رسک فیکٹرس سے موازنہ کرکے بتا سکتا ہے کہ آپ کو کولیسٹرول کو کم کرنے کی ضرورت ہے کہ نہیں۔

• سیچیوریٹیڈ ٖفیٹس اور کولیسٹرول کے انٹیک کو کم کردیں انسان کا جسم اپنا کولیسٹرول خد تیار کرتا ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ کو کھانے کے ذریعے بہت کچھ حاصل کرنے کے ضرورت نہیں ہے، سیچیوریٹیڈ فیٹس خاص طور پر ایل ڈی ایل کولیسٹرول میں اضافہ کرتا ہے جس کے دل کا دورا ہونے کے خطرات بڑہ جاتے ہیں۔