کیا جنوبی بحر اوقیانوس کے قریب مقناطیسی فیلڈ میں کمزوری کی وجہ سے سیٹلائیٹس اور خلائی جہاز کام کرنا چھوڑ دیں گے؟

Science
Earth Magnetic Field Is Acting Sketchy Again

جنوبی بحر اوقیانوس(South Atlantic) کے قریب زمین کا حفاظتی مقناطیسی فیلڈ کمزور ہورہا ہے۔ محققین زمین کے مقناطیسی میدان میں ہونے والی تبدیلیوں کی نگرانی کے لئے یورپی خلائی ایجنسی کے سوارم سیٹلائٹ برج کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے، خوش قسمتی سے  خطرے کی گھنٹی پیدا کرنے کی کوئی فوری وجہ نہیں ہے، اگرچہ کمزور خطے پر پرواز کرنے والے کچھ سیٹلائٹ اور خلائی جہاز خرابی کا شکار ہوسکتے ہیں۔

زمین کے بیرونی حصے میں لہریں کھانے والا لکیوڈ لوھے کا کور جو ہمارے نیچے 1900 میل (3200) کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جو ہماری زمین کا حفاظتی مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے۔

جو ہماری زمین کو شمسی ہوائوں سے بچاتا ہے اور نیویگیشن سسٹم کی بھی رہنمائی کرتا ہے جو سمارٹ فون سے لے کر مصنوئی سیاروں تک ہرچیز کو صحیح اطراف کی رہنمائی کرتا ہے۔

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ حالیہ دہائیوں میں ، ہمارا مقناطیسی شمالی قطب اپنی جگہ بدل رہا ہے اور تیز رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔

 جب کہ اب سائنسدان ، یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کے سوآرم مصنوعی سیاروں کا استعمال کرتے ہوئے اس متاثرہ خطے میں افریقہ سے لے کر جنوبی امریکہ تک پھیلے ہوئے زمین کے مقناطیسی میدان میں کمزور ہونے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جس کو انہوں نے  “جنوبی بحر اوقیانوس انوملی” (South Atlantic Anomaly) کا نام دیا ہے۔

مقناطیسی میدان میں یہ کمزور پیچ ہر سال تقریبا 12 میل کی رفتار سے جنوبی امریکہ کی طرف بڑہ رہا ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں سوارم سیٹلائٹ کے ذریعہ لی گئی حالیہ پیمائش سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں یہ واقعی دو حصوں میں تقسیم ہوسکتا  ہے۔

اگر زمین گردش کرنا بند کردے توکیا ہوگا؟

یورپین اسپیس ایجنسی (ESA) نے نومبر 2013 میں اپنا  پہلا سوارم سیٹلائٹ خلا میں چھوڑا تھا۔ تب سے اس نے زمین کے پراسرار مقناطیسی میدان کے بارے میں اہم راز فاش کردیئے ہیں۔ یہ سیٹلائیٹس کا بڑا برج  تین ایک جیسے ، ٹریپیزائڈ کے سائز کے مصنوعی سیاروں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے  ہر 29 فٹ کا سیٹلائٹ سینسروں سے بھرا ہوا ہے جو زمین کی مقناطیسیت کی پیمائش کرتا ہے۔

زمین کے مقناطیسی پول زمین کی تاریخ میں پہلے بھی اپنی جگہ سے بدل چکے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ہر 250,000 سالوں میں ایک بار  اپنے مقامات تبدیل کیئے ہیں۔

  دوںوں مقناطیسی پولوں کے بیچ میں آخری سوئچ تقریبا 780,000 سال پہلے واقع ہوئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی بحر اوقیانوس کی انوملی کے بڑہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم قطب کی الٹ پلٹ کی طرف گامزن ہیں۔ لہذا فی الحال گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

تاہم ، اس ہونے والی تبدیلی سے علاقے میں مصنوعی سیاروں اور خلائی جہازوں کو مسائل درپیش آسکتے ہیں۔  چونکہ اس خطے میں مقناطیسی میدان کمزور ہے ، لہذا خلائی جہاز چارج شدہ ذرات سے زیادہ حساس ہوتا ہے اس لیئے یہ تبدیلی مستقبل میں خلائی شٹلس کے سامان اور سیٹلائیٹس کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور خرابی کا سبب بھی  بن سکتی ہیں۔