محققین نے ناک اور آنکھ کے ان خلیوں کی نشاندہی کرلی ہے جو کورونا وائرس کو جسم تک پھیلانے میں مدد کرتے ہیں

Science
Key nose cells identified as likely COVID-19 virus entry points

سائنسدانوں نے ناک کے اندر دو ایسے خلیوں کی نشاندہی کی ہے جو ممکنہ طور پر کورونا وائرس کے ابتدائی انفیکشن میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔  ماھرین نے دریافت کیا ہے کہ ناک میں  گلوبٹ (Globet) اور سلیٹیڈ (Ciliated) نامی خلیوں میں پروٹین داخل ہونے کی سطح بہت زیادہ ہوتی ہے جس کو کووڈ-19 وائرس ہمارے خلیوں میں داخل ہونے کےلئے استعمال کرتا ہے، جو وائرس ٹرانسمیشن کے بڑہاوے میں مدد کرتے ہیں۔

ہیومن سیل اٹلس لنگس بایولوجیکل نیٹورک کے ساتھ ہونے والی اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ  آنکھوں کے خلیوں اور کچھ دوسرے اعضاء میں بھی وائرل انٹری پروٹین کو دیکھا گیا ہے۔

مطالعہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کلیدی انٹری پروٹین دوسرے مدافعتی نظام جینوں کے ساتھ کیسے  اپنے آپ کو ریگیولیٹ کرتا ہے۔

ناول کورونا وائرس پھیپھڑوں اور سانس لینے والے راستوں کو متاثر کرتا ہے۔ مریض کی علامات فلو کی طرح ہوسکتی ہیں بشمول بخار ، کھانسی اور گلے کی سوزش، جب کہ بہت سارے لوگوں میں علامات نہیں پائی جاتی لیکن پھر بھی ان میں منتقل ہونے والا وائرس موجود ہوتا ہے۔

بدترین صورتوں میں، وائرس نمونیا کا سبب بنتے ہوئے بالاخر موت کا سبب بنتا ہے۔ جب متاثرہ فرد کو کھانسی لگتی ہے یاچھینک آتی ہے تو یہ وائرس متاثرہ علائقوں میں آسانی سے پھل رہا ہوتا ہے۔

دو اہم انٹری پروٹین ACE2 اور TMPRSS2 بھی آنکھ کے کارنیا اور آنت(Intestine) کے استر کے خلیوں میں پائے گئے ہیں۔ اس سے آنکھوں میں آنسئوں کے ذریعے انفیکشن ہونے کا ایک اور ممکنہ راستہ بھی ہوسکتا ہے اور اس کے علاوہ آنتوں میں منھن کے ذریعے ترسیل کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے

اب تک یہ وائرس تقریبا ساری دنیا میں پھیل چکا ہے اس وقت تک تین ملین لوگ متاثر ہوگئے ہیں جب کہ دو لاکھ کے قریب لوگوں کا اموات ہوا ہے۔ سب سے متاثرہ ملکوں میں آمریکہ ہے جہاں پر ایک ملین کے قریب متاثرین ہیں اور 52185 لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔