پچاس سالوں سے جلتی ہوئی آگ

Strange Facts
Gate of hell Turkmenistan

 ھماری دنیا میں ایک ایسی جگہ بھی ہے جو گیٹس آف ھیل یا نرک کے دروازے سے مشہور ہے ۔

  پرانے سوئیت یونین کے وقت میں ترکمانستان میں کارکوم ریگستان میں سائنسدانوں نے ایک قدرتی گئس کا زخیرہ پایا تھا اور اس کی کھدائی شروع کردی تھی اور اس کی ڈرلنگ کے دوران ایک عجیب و غریب چیز سے ٹکراو ہوا تھا اور تھوڑی دیر بعد سارا ڈرلنگ کا سامان زمین دوز ہوگیا اور پھر ایک زھریلی گئس بہنی لگی جو ماحول کے لئے بہت ہی خطرناک تھی۔

 سائنسدانوں نے ماحولیاتی تباھی سے بچنے کےلئے اس غار کو آگ لگا دی تھی اور وہ آگ 1971 مین لگائی گئی تھی جو ابھی 49 سالوں کے بعد بھی جل رہی ہے جس کو وہان کے مقامی لوگوں نے ڈور آف ہیل کا نام دے دیا ہے۔

ترکمانستان میں واقع یہ آگ کا گھاٹ 230 فٹ چوڑا ہے اور 30 میٹر گہرا ہے  یہ جگہ ہرسال ہزاروں سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔

2013 میں نیشنل جیوگرافر ایکسپلورر  جارج کورونیس نے ہیٹ رفلیکٹر سوٹ پہن کے اس کے اندر چھلاگ لگایا تھا اس کے مطابق وہان پر درجہ گرارت بہت زیادہ تھا اور وہان سے باہر نکلتے ہوئے کورونیس نے اس گڑے کے نچلے حصے میں مٹی کے نمونے اکٹھے کئے تھے اور بعد میں اس مٹی کے تجزے سے بیکٹریا کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا۔

جب کہ ان بیکڑیاز نے سائنسدانوں کو حیران کرکے رکھ دیا ہے کہ اتنی گرم جگہ سے بھی کسی  کا زندہ ہونا کسی عجوبے سے کم نہیں تھا۔

 جیولاجسٹ کو ابھی تک اندازہ نہیں ہے کہ یہ آگ کتنے عرصے تک جلتی رہے گی لیکن کچھ ماھرین کا ماننا ہے یہ اگلے 100 سالوں تک بلکل اسی طرح ہی جلتی رہے گی جس طرح ابھی جل رہی ہے۔